خطبات محمود (جلد 24) — Page 216
خطبات محمود 216 $1943 اس کا یہ فرض ہے کہ ہمیشہ اپنے آپ کو واقف ہی سمجھے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ وعدہ خلاف اور غدار سمجھا جائے گا۔پس جس نے کسی وقت بھی اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا وہ اس سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔میر ایا کسی اور کا اسے کسی وقت قبول نہ کرنا اسے وقف کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں کر سکتا کیونکہ وقف تو ایک عہد ہے، خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان، اور کوئی قبول کرے یا نہ کرے یہ عہد ہر گز نہیں ٹوٹ سکتا۔بلکہ اگر صرف دل میں ہی وقف کا ارادہ کیا جائے ، چاہے اظہار نہ ہو تو بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔پس وقف قبول کئے جانے یا نہ کئے جانے کا کوئی سوال نہیں۔جو شخص وقف کرتا ہے اس کا وقف ہمیشہ قائم رہتا ہے اور خدمتِ دین کی ایک صورت کے لئے اسے قبول نہ کئے جانے کے یہ معنے نہیں کہ وہ دین کی کسی اور رنگ میں خدمت کرنے کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہو گیا۔اگر ایک شخص کی آنکھیں خراب ہیں اور اسے فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا تو اس کے یہ معنے نہیں کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملک کی خدمت کے فرض سے آزاد ہو گیا۔کیونکہ اگر وہ با قاعدہ لڑنے والی فوج میں شامل نہیں کیا گیا تو کئی اور صورتوں میں خدمت ملک کر سکتا ہے۔کلرک بن سکتا ہے، زخمیوں کے لئے پٹیاں بنانے کا کام کر سکتا ہے۔ایسی تحریکیں کر سکتا ہے جن سے فوجی بھرتی میں امداد مل سکے۔اور نہیں تو عوام میں بے چینی پیدا کرنے والی غلط افواہوں کی تردید کر کے ایک اہم خدمت سر انجام دے سکتا ہے۔غرض جو شخص کسی خاص وقف کی تحریک میں نہ لیا جانے کی صورت میں یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اب وقف کی ذمہ داری سے وہ آزاد ہو گیا ہے وہ ایسا ہی احمق ہے جیساوہ والنٹیر احمق ہے جو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے گیا اور اسے فوج کے قابل نہ سمجھ کر آزاد کر دیا گیا۔اور اس نے ملک کی خدمت کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو آزاد سمجھ لیا۔اگر وہ کامل مومن ہے تو صرف دل میں ارادہ کرنے سے اور اگر ادنی مومن ہے تو اپنے آپ کو پیش کر دینے کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے ہاں وقف ہے۔خواہ اسے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔پس جو نوجوان اپنے آپ کو پیش کر چکے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ قیامت تک وقف ہیں۔اور جو اب میری اس تحریک پر یا کبھی آئندہ اپنے آپ کو پیش کریں وہ بھی اس بات کو