خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 214

$1943 214 خطبات محمود سے نہ تھا کہ ان کے دل میں شوق نہ تھا بلکہ یہ وجہ تھی کہ ان میں شامل ہو سکنے کی طاقت نہ تھی۔پس جن میں شامل ہونے کی طاقت تھی ان کا اندازہ کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی نوے فیصدی دوستوں نے مالی قربانی کا قابل یاد گار نمونہ پیش کیا ہے لیکن تبلیغ کے لئے وقف زندگی کا نمونہ ایسا شاندار نہیں جو جماعت نے مالی قربانی کے لحاظ سے دکھایا ہے۔ابھی بہت سے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنے اوقات کو کلی طور پر دین کی خدمت میں لگانے کے لئے تیار ہوں۔پھر میں نے ایک اور نقص دیکھا ہے کہ دوستوں میں کام کرنے میں سستی کی عادت ہے۔جسے کسی کام پر مقرر کیا جائے وہ غفلت کرتا ہے۔یہ عادت اہم مہمات کے سر کرنے کے لئے سخت مضر ہے اور فتح کے وقت کو پیچھے ڈال دینے والی عادت ہے۔اس کی اصلاح بھی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والوں کی ایک ایسی جماعت ہو جو ایک خاص پروگرام کے ماتحت تعلیم و تربیت حاصل کرے اور پھر وہی روح دوسروں میں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگیوں کو دین کے لئے وقف کریں۔اس سلسلہ میں میں جماعت کے دوستوں کو ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتاہوں۔جس کی طرف پہلے توجہ نہیں اور پہلے میں نے اسے بیان بھی نہیں کیا۔ہر شخص جو اپنی زندگی وقف کرتا ہے اس کے وقف کرنے کے یہ معنے نہیں کہ اس کا وقف ضرور قبول کر لیا جائے۔پیش کرنے والوں میں سے جو کام کے لئے موزوں سمجھتے جاتے ہیں ان کو لے لیا جاتا ہے اور باقی کو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن جو شخص ایک دفعہ اپنی زندگی وقف کرتا ہے وہ خدا کے ہاں ہمیشہ ہی واقف سمجھا جاتا ہے۔میرے اسے رڈ کرنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاں بھی رد ہو گیا۔چاہے ہم اسے قبول نہ کریں وہ خدا تعالیٰ کے ہاں واقف ہے۔چاہے وہ باہر جا کر کوئی اور نوکری ہی کر رہا ہو جب بھی وقف زندگی کے لئے جماعت سے مطالبہ کیا جائے اس کا فرض ہے کہ پھر اپنے آپ کو پیش کرے۔خواہ پھر رڈ کر دیا جائے اور رڈ کرنے کی صورت میں اگر وہ کوئی اور کام بھی کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت وہ دین کی خدمت میں صرف کرے۔ورنہ وہ شدید وعدہ خلافی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔جب ایک شخص