خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 213

$1943 213 خطبات محمود کے قلعہ کی مادی دیواریں زیادہ سے زیادہ مضبوط ہیں۔البتہ روحانی دیوار میں خطرناک رخنے اور کسی نادان کا ہی یہ کام ہو سکتا ہے کہ مضبوط چٹانوں اور دیواروں کے ساتھ سر پھوڑتا رہے اور جہاں سے دیوار گری ہوئی ہو وہاں سے اندر داخل نہ ہو۔آج دشمن کا قلعہ مذہبی نقطہ نگاہ سے گر رہا ہے اور اس جہت سے بہت کمزور ہو چکا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الہی منشاءازل سے یہی تھا کہ اس زمانہ میں دونوں طاقتوں کو جمع کر کے ایک ایسا مضبوط قلعہ تیار کرے کہ جو ہر طرح مکمل ہو۔دنیوی طاقت تو خود ان قوموں نے قائم کر لی ہے اور روحانی طاقت احمدیت کے ذریعہ ان کو مل جائے اور اس طرح ایک ایسا قلعہ تیار ہو جائے جس کی کوئی بھی دیوار کمزور نہ ہو۔اس کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ جماعت کا ہر فرد تبلیغ کرے وہاں ایک خاص جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے۔جو اسلام کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دے۔اس کی طرف میں نے جماعت کو متواتر توجہ دلائی ہے۔کچھ نوجوان آگے آئے بھی ہیں مگر جس حد تک ضروری ہے اس حد تک نہیں۔پچھلے سالوں میں مالی قربانی کے لحاظ سے جماعت نے نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ایسا نمونہ کہ جس پر فخر کیا جاسکتا ہے اور پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اور کوئی قوم ایسی نہیں جو دلی جوش اور ارادہ کے ساتھ ایسی قربانی کرے۔بغیر کسی جبر یا قانون کے اور بغیر کسی ایسے محکمہ کے جولوگوں کی آمدنیوں کا حساب کر کے ان پر ٹیکس لگائے۔محض اپنے ارادہ سے اتنی قربانی کرنے والی اور کوئی قوم دنیا میں نہیں۔جنگ کے زمانہ میں چونکہ ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے اس لئے لوگ زیادہ قربانی کرتے ہیں۔مگر جو قربانی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ کرتی ہے ویسی جنگ کے زمانہ میں بھی دوسری قومیں بہت کم کرتی ہیں۔ہماری جماعت کو کوئی ظاہری جنگ در پیش نہ تھی۔روحانی جنگ تھی اور وہ جاری ہے اور جاری رہے گی مگر ظاہری جنگ کے نہ ہونے کے باوجود جماعت کے بڑے حصہ نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔اس سے زیادہ لوگ اس لئے شامل نہیں ہو سکے کہ تحریک جدید میں شامل ہونے کے لئے یہ شرط لگادی گئی تھی کہ کم سے کم اتنی رقم دے کر اس میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے۔اس لئے باقی لوگ مجبور آشریک نہ ہو سکے۔ان کا شامل نہ ہو سکنا اس وجہ