خطبات محمود (جلد 24) — Page 164
$1943 164 خطبات محمود مگر میر ا خرچ گیارہ بارہ سو روپیہ ہے یا آمد پانچ سو روپیہ ہے تو خرج سات سو روپیہ ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ہاں جب کوئی مہمان آجاتا ہے اسے دیکھتے ہی اس کی جان نکل جاتی ہے کہ میں تو آگے ہی مقروض ہوں اسے کھانا کہاں سے کھلاؤں۔اسی وجہ سے خصوصاً شہر بہت ہی بد نام ہیں۔لاہو کے متعلق تو عام لطیفہ مشہور ہے کہ جب کسی کے ہاں مہمان آتا ہے تو وہ پہلے اس سے یہ دریافت کرتا ہے کہ آپ کس گاڑی سے واپس جائیں گے اور جب ریل کا وقت قریب آتا ہے تو میزبان کھانا لانے میں عمد أدیر کر دیتا ہے اور جب بہت ہی تھوڑا وقت رہ جاتا ہے تو وہ آکر کہتا ہے کہ صاحب کھانا بھی تیار ہے اور ریل بھی تیار ہے۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ریل کا وقت سن کر کھانا کہاں کھائے گا۔یہی کہے گا کہ اگر ریل کا وقت ہو گیا ہے تو پھر میں کھانا نہیں کھاتا۔ایسا نہ ہو میں رہ جاؤں۔غرض لاہور کے متعلق یہ لطیفہ عام طور پر مشہور ہے مگر اس سے مرادلا ہور کے اصلی باشندے ہیں۔باہر سے آنے جانے والے جو وہاں ٹھہرتے ہیں ان میں کچھ مدت تک مہمان نوازی کی عادت قائم رہتی ہے۔ایسے موقعوں پر بعض لوگ ڈھیٹ بن کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ بہت اچھا آپ کھانا لے آئیں ہم کسی اور گاڑی پر روانہ ہو جائیں گے۔یہ سن کر وہ اس وقت کھانے کے انتظام کے لئے دوڑتے ہیں کیونکہ در حقیقت انہوں نے پہلے کھانا تیار نہیں کیا ہوتا۔گو اس لطیفہ میں مبالغہ ہو گا اور یقینا ہے کیونکہ کسی ملک یا کسی شہر کے تمام افراد کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ جذبہ مہمان نوازی سے عاری ہیں۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہریوں نے اپنی ضرورتیں اتنی بڑھالی ہیں، اتنی بڑھالی ہیں کہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کے لئے انہیں اپنی تنخواہوں میں گنجائش ہی نظر نہیں آتی مگر جن لوگوں نے تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کیا ہے انہیں جنگ کے باوجو د خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی تکلیف نہیں۔میں لوگوں سے کئی دفعہ سنتا ہوں کہ سونا اب سو روپے تولہ ہو گیا ہے، اب ہم زیورات کس طرح بنوائیں۔مگر میں نے آج تک کسی احمدی کو اس رنگ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔وہ اس بات پر تو افسوس کا اظہار کر دیتے ہیں کہ جب سونا ساٹھ روپے تولہ تھا اس وقت ہم نے فلاں زیور کیوں فروخت کیا۔اب فروخت کرتے تو زیادہ روپیہ مل جاتا مگر میں نے کسی احمدی کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ اب سونا سخت مہنگا ہو گیا ہے، نئے زیورات