خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 153

$1943 153 خطبات محمود لوگ بُرا بھلا کہہ دیتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے جو غلو سے کام لیا تو آپ نے کہا کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں نبیوں کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسی شریف النسب انسان کے مقابلہ میں ایک چوہڑے کی 2 لوگوں نے اسے کفر قرار دیا ہے حالانکہ انہوں نے یہ احدیت کا مقام بیان کیا ہے جو بہت بلند ہے۔اگر انسان اس مقام کو سمجھ لے تو یہ سب مدارج اسے ایک جدا گانہ چیز نظر آنے لگتے ہیں اوروہ اچھی طرح سمجھنے لگتا ہے کہ اس مقام کے مقابل پر نبی اور ولی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے ان کے مدارج کا تعلق وحدانیت سے ہے احدیت سے نہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی صفات کا خاص پر تو ڈالتا ہے۔دنیا میں مختلف لوگ اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔کوئی صفت رزاق کا، کوئی ستار اور کوئی غفار کا مظہر ہوتا ہے مگر یہ سب مظاہر اللہ تعالیٰ کی صفات کے ہیں، ذات کے نہیں۔پس توحید کامل کے لئے قلبی صفائی کی سخت ضرورت ہے۔اگر قلبی آئینے صاف نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مختلف اشکال دکھاتے ہیں۔جس سے اس کی صفات کے متعلق غلطی لگ جاتی ہے اور اس کی حقیقی شان ظاہر نہیں ہو سکتی اور قلبی صفائی کے لئے یہ چیز ضروری ہے کہ ہم اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اتنی بڑھائیں کہ احدیت کا مقام صاف نظر آنے لگے۔اگر وہ خود ہمیں نظر آئے تو ہم دنیا کو بھی دکھا سکتے ہیں لیکن اگر ہمیں خود بھی نظر نہ آئے تو ہم ناقص توحید پھیلانے والے ہوں گے اور ہمارے دعوے صرف مُنہ کے دعوے ہوں گے حالانکہ منہ سے تو عیسائی بھی اللہ تعالیٰ کو ایک ہی کہتے ہیں اور اسی طرح اگر ہم بھی منہ سے کہہ دیں تو اس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکل سکتا۔پس ہماری جماعت کے جو دوست شوری کے لئے جمع ہوئے ہیں وہ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ ہمارا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی احدیت کو محسوس کریں اور اسے پہچانیں اور پھر دوسروں کو دکھائیں اصل مقام احدیت کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورہ کو قرآن کریم کے آخر میں رکھ کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں توحید کامل کو دنیا میں پیش کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ثابت کر کے توحید کامل کے رستہ میں جو روک تھی اسے دور کر دیا ہے۔