خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 151

$1943 151 خطبات محمود کی کثرت توحید پر قائم ہو جائے۔توحید کا دوسرا حصہ اشاعت کا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ یہ خیالات کی جو یکسوئی پیدا کی گئی ہے اسے پھیلایا جائے اور سب انسانوں کو اس کے حلقہ میں لے لیا جائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے سب انبیاء سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں پیشگوئیاں کرا دیں تالوگ یہ پتہ لگا سکیں کہ اس زمانہ میں نجات اس شخص سے وابستہ ہے اور اسی لئے یہ سورۃ بھی قرآن کریم کے آخر میں رکھی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ صحیح تو حید کو اس رنگ میں دنیا پر قائم کرنا ہماری جماعت کا کام ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبعین کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی احدیت کو دنیا میں ثابت کریں اور یہ ایسا کام ہے جو اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ دل کے آئینے صاف نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی تصویر ان میں نظر آئے۔اگر ہمارے دل کے آئینے صاف نہ ہوں اور وہ مختلف اقسام کی شکلیں دکھائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جو اور لوگ اس جماعت میں آئیں گے وہ بھی نئی نئی شکلیں ہی دکھائیں گے۔تو توحید کامل کے لئے قلب کی صفائی بہت ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہمارے ہی ذریعہ سے دنیا کے سامنے آتا ہے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہمارے قلب کے آئینے بالکل صاف ہوں۔توحید الہی کو انسان کا قلب ہی ظاہر کر سکتا ہے۔قلب انسانی جب پاک ہونے لگتا ہے تو ساتھ ہی وہ بلند بھی ہوتا جاتا ہے حتی کہ اس مرکز اور منبع تک پہنچتا ہے جہاں سے یہ دریا چلتا ہے اور وہ ہر چیز میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ کام کرتا ہوا دیکھنے لگ جاتا ہے۔پہلے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ مخلوق آپ ہی آپ ہو گئی ہے مگر پھر وہ بلند ہو کر دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ ہر چیز کو پیدا کرتے ہیں۔پہلے وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہوا جس میں وہ سانس لے رہا ہے خود بخود ہی موجود ہو گئی مگر جب وہ بلندی تک پہنچتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ دراصل ایک قادر خدا ہے جو پھونکیں مارتا اور اس طرح ہوا پیدا ہوتی ہے اور اس مقام پر پہنچ کر اسے احدیت کا احساس ہو تا ہے۔ورنہ جہاں تک انسان کا علم ہے وہ تو صرف علت تک ہی جاتا ہے۔علت و معلول اور سبب و مسبب کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی طاقت انسان میں نہیں حتٰی کہ دل کی آنکھیں کھلیں اور وہ محسوس کرلے کہ اللہ تعالیٰ کی احدیت ہی دراصل دنیا کو پیدا کرنے والی ہے۔علت و معلول علیحدہ چیز