خطبات محمود (جلد 24) — Page 134
خطبات محمود 134 $1943 اور گندم جو سات روپیہ پر بک رہی تھی یکدم ساڑھے سات پر پہنچ جائے۔ساہوکار کو کہا جائے کہ ہم تمہیں ایک آنہ یا دو آنہ فی من کمیشن دیں گے تم ہم سے روپیہ لیتے جاؤ اور گندم اکٹھی کر کے دیتے جاؤ۔تو ایک آنہ یا دو آنے فی من کمیشن پر زیادہ خرچ بھی نہیں ہو گا اور گندم بھی آسانی سے جمع ہو جائے گی۔کیونکہ ساہوکار یہ کام روزانہ کرتے ہیں اور ان کے گماشتے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔زمیندار بھی جانتے ہیں کہ ان کا روز کا یہ کام ہے۔پس انہیں کسی ساہوکار کے جانے پر تعجب نہیں ہو تا مگر جب غیر آدمی ان کے پاس گندم خریدنے کے لئے جاتے ہیں تو یکدم تین چار آنے بھاؤ بڑھ جاتا ہے۔بظاہر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ساہوکار کو ایک یادو آنے کمیشن کیوں دیں ہم خود گندم لائیں گے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ خود جائیں گے تو پانچ سات آنے ریٹ بڑھ جائے گا اور انہیں غلہ سستا نہیں بلکہ مہنگا ملے گا۔صرف فرق یہ ہو گا کہ اگر وہ ساہوکار کی معرفت غلہ خریدتے تو سات روپے ایک آنہ یا سات روپے دو آنے یا سات روپے تین آنے پر غلہ مل جاتا مگر جب آپ جاتے ہیں تو وہی غلہ سات روپیہ پانچ آنہ یاسات روپیہ آٹھ آنہ پر لے آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کو کمیشن نہیں دیا۔حالانکہ اگر وہ کمیشن دیتے تو انہیں اتنا نقصان نہ ہو تا جتنا کمیشن نہ دینے کی صورت میں انہیں ہوا۔تاجر ہمیشہ ستا سودا خریدنا جانتا ہے۔پس اگر اچھا تاجر مل جائے تو وہ کمیشن کے لالچ میں تمام کام کر دیتا ہے اور کسی قسم کی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی۔پس میری دوسری تجویز یہ ہے کہ قادیان کے ارد گرد جو مختلف ساہوکار ہیں، کمیٹی ان سے مل کر گندم کی فراہمی کا انتظام کرے اور انہیں مناسب کمیشن دے دیا جائے۔دنیا میں کروڑوں من غلے خریدے جاتے ہیں مگر کبھی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی۔ہم نے بیس تیس یا پچاس ہزار من غلہ خریدنا ہوتا ہے اور لوگ گھبرا جاتے ہیں۔حالانکہ منڈیوں میں دس دس، ہیں ہیں، تیس تیس لاکھ من غلہ کے سودے ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو پتہ تک نہیں لگتا کہ اتنا بڑا سودا ہو گیا ہے۔درحقیقت وہ ساہوکار جن کا روزانہ یہ کام ہوتا ہے کہ ان کے منڈیوں میں آنے جانے اور گندم خریدنے کی وجہ سے کسی کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ لوگوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔مگر جب غیر آدمی گندم خریدنے کے لئے چلے جاتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں