خطبات محمود (جلد 24) — Page 128
$1943 128 خطبات محمود کہ وہ اسے پہلے خرچ نہیں کریں گے بلکہ سال کے آخری پانچ مہینوں کے لئے محفوظ رکھیں گے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ غلہ سال کے آخری پانچ مہینوں کے لئے ہے تو وہ پہلے کہاں سے کھائیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر سلسلہ ان کی امداد نہ کرتا تو جس طرح وہ بارہ مہینے گزارہ کر سکتے تھے اس سے زیادہ عمدگی کے ساتھ وہ سال کے سات ماہ میں گزارہ کر سکتے ہیں۔آخر سلسلہ کی طرف سے مدد نہ ہونے کی صورت میں وہ اس بات پر مجبور ہوتے کہ اپنے بارہ ماہ کے اخراجات کے لئے کوئی مناسب انتظام کریں مگر موجودہ صورت میں ان کی وہی طاقت جس نے بارہ مہینے خرچ ہونا تھا سات ماہ خرچ ہو گی اور اس طرح وہ نسبتا آسانی اور سہولت کے ساتھ ان مہینوں کے اخراجات کا انتظام کر سکیں گے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ غلہ دے دے تو ہم بجائے پانچ ماہ کے اخراجات کے انہیں چھ یا سات ماہ کے اخراجات کے لئے گندم دے دیں مگر چونکہ نومبر تک غلہ ستا رہتا ہے اور نومبر کے بعد گراں ہونا شروع ہوتا ہے اور دوسری طرف غله اتنا زیادہ جمع نہیں ہو تا جو چھ یا سات ماہ کے اخراجات کے لئے لوگوں میں تقسیم کیا جا سکے۔اس لئے اس وقت تک میرا فیصلہ یہی ہے کہ سال کے آخری پانچ مہینوں کے لئے لوگوں کو امداد دی جائے۔مگر ایک حصہ جماعت کا ایسا بھی ہے جو صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں میں شامل نہیں اور وہ ایسا غریب بھی نہیں کہ گندم خرید نہ سکے مثلاً پنشنر ہیں ان کی پنشن آتی ہے اور وہ اس پر عمدگی سے گزارہ کرتے ہیں یا تاجر ہیں وہ تجارت کے ذریعہ روپیہ کماتے ہیں یا پیشہ ور ہیں جو اپنے پیشہ اور صنعت کے ذریعہ اپنے گزارہ کا معقول انتظام رکھتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے طور پر گندم خرید سکتے ہیں۔مگر گزشتہ سال ان میں سے بھی بعض نے غلہ نہیں خریدا اور اس وجہ سے انہیں مشکلات برداشت کرنی پڑیں۔اسی لئے مجھے دوبارہ جماعتوں میں تحریک کر کے غلہ جمع کرنا پڑا اور ایک ہزار من غلہ جمع کر کے انہیں سستے نرخوں پر دے دیا۔یہ سستے نرخ ویسے نہیں تھے جیسے شروع میں گندم کا نرخ تھا مگر مقابلہ پھر بھی ارزاں تھا۔اگر میری تحریک پر وہ شروع میں ہی گندم خرید لیتے تو پونے چار پانچ یا پانچ روپے چھ آنے پر انہیں گندم مل جاتی مگر چونکہ انہوں نے یہ وقت ضائع کر دیا اس لئے ان کے لئے بعد میں غلہ جمع کرنا پڑا جو کسی کو ساڑھے پانچ، کسی کو چھ ، کسی کو سات اور کسی کو آٹھ روپیہ پر دیا گیا کیونکہ جس نرخ پر غلہ ملتا گیا