خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 127

$1943 127 خطبات محمود سے گندم خرید لی تھی۔جن لوگوں کی کوئی کٹوتی نہیں تھی ان کے متعلق میں نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ اگر ان کا پراویڈنٹ فنڈ موجود ہے تو پراویڈنٹ فنڈ کی ضمانت پر اور اگر پراویڈنٹ فنڈ نہیں تو ان سے کوئی اور ضمانت لے کر انہیں اتنی رقم دے دی جائے جس سے وہ سال بھر کے لئے گندم خرید سکیں۔چنانچہ ہماری جماعت کا یہ حصہ جو کارکنوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ان کو اس دفعہ بھی گزشتہ کٹوتیوں کی رقم مل جائے گی۔اور اس کے ذریعہ اگر وہ چاہیں تو اکٹھی گندم خریدنے کی کوشش کر سکیں گے۔جو کار کن ایسے ہیں جن کی پہلی کوئی کٹوتی نہیں اور وہ بعد میں کام پر مقرر ہوئے ہیں ان کے متعلق میں اس دفعہ پھر صد را انجمن احمدیہ کو ہدایت دیتا ہوں کہ اگر ان کے پراویڈنٹ فنڈ کی ضمانت موجود ہے تو اس ضمانت پر ، ورنہ کسی اور ضمانت پر انہیں اتنی رقم دے دی جائے جس سے وہ سال بھر کے لئے اکٹھی گندم خرید سکیں۔اور جسے ایک سال کے اندر اندر وہ اپنی تنخواہوں میں سے کٹوا سکیں۔باقی صرف وہ لوگ رہ جاتے ہیں جو کسی صورت میں بھی اکٹھی گندم خرید نہیں سکتے۔ان کے لئے گزشتہ خطبہ میں میں نے تحریک کر دی ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ان کے لئے گندم جمع کی جائے۔جب یہ گندم جمع ہو جائے گی تو سال کے پچھلے پانچ ماہ کے اخراجات کے لئے اس سال بھی انہیں انشاءَ اللهُ گندم دے دی جائے گی تاکہ سال کے پچھلے حصہ میں جب گندم کی فراہمی میں سخت دقت پیش آتی ہے انہیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ ہو۔مگر گزشتہ سال کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ بعض لوگوں نے باوجود اس تاکید کے کہ یہ غلہ ہم انہیں اس وقت کے لئے نہیں دے رہے بلکہ سال کے آخری پانچ مہینوں میں استعمال کرنے کے لئے دے رہے ہیں۔انہوں نے اس غلے کو استعمال کر لیا اور اس طرح بعد میں انہیں پریشانی اٹھانی پڑی۔میں اس دفعہ پھر دوستوں کو یہ تاکید کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری طرف سے یہ انتظام سال کے آخری پانچ مہینوں کے لئے ہو گا اور سال سے مراد غلے کا سال ہے۔یعنی دسمبر، جنوری، فروری، مارچ اور اپریل کے اخراجات کے لئے یہ غلہ ہو گا۔پہلے استعمال کرنے کے لئے نہیں ہو گا۔پس جن جن دوستوں کو غلہ دیا جائے گا ان سے یہ امید کی جائے گی اور عہد لیا جائے گا