خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 125

$1943 125 خطبات محمود کہ وہ جس قدر غلہ اپنے لئے جمع کرے اس کا چالیسواں حصہ ان کے لئے نکال کر بھیج دے۔مگر جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے وہ یہ غلہ صدقہ سمجھ کر نہ دیں بلکہ ایک اسلامی بھائی چارہ کے لئے قربانی سمجھ کر دیں۔وہ یہ خیال کرلیں کہ جیسے انسان اپنی بیوی کو کھلاتا ہے ، اپنے بچوں کو کھلاتا ہے اور ان کو کھلانا انسان کا فرض ہوتا ہے اسی طرح جماعت کے غرباء کی امداد کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر فرض عائد کیا گیا ہے۔اور وہ اس فرض کی ادئیگی کے لئے یہ غلہ دے رہے ہیں۔پس وہ اسے صدقہ نہیں بلکہ اپنے فرض کی ادائیگی سمجھیں۔تین ہدایتیں ہیں جو آج میں نے دی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ قادیان میں ہی اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی آبادی ہو گئی ہے کہ اگر وہ غرباء کا حق اپنے غلہ میں سے صحیح نسبت سے نکالیں تو آدھی ضرورت قادیان والے ہی پوری کر سکتے ہیں۔باقی آدھی ضرورت بیرونی جماعتیں بڑی آسانی سے پوری کر سکتی ہیں۔پھر میں نے یہ بھی بتایا ہے کہ باہر والوں کو بھی مقامی غرباء کی مدد مد نظر رکھنی چاہیئے۔گاؤں والے بالخصوص اگر اس کا خیال رکھیں تو وہ آسانی سے ایسا کر سکتے ہیں۔“ (الفضل 20 اپریل 1943ء)