خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 108

$1943 108 خطبات محمود کوئی سکیم بنانے کے لئے ہے۔دس بارہ گزہٹ کر میں بھی کھڑا ہوں اور گفتگو سن رہا ہوں۔ایشائی حکومت کا نمائندہ اس مغربی حکومت کے نمائندہ کو بتاتا ہے کہ ہمارے ملک کے فلاں فلاں علاقوں میں فلاں یورپین ملکوں کی فوجیں موجود ہیں جسے ہم پسند نہیں کرتے۔ہمارا ملک آزاد ہے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس کی فوجیں وہاں موجود رہیں۔اس پر وہ یورپین حکومت کا نمائندہ پوچھتا ہے کہ کیا تم نے اس پر احتجاج نہیں کیا۔تمہیں چاہیئے تھا کہ اس پر احتجاج کرتے۔وہ جواب دیتا ہے کہ ہم نے احتجاج تو کیا ہے مگر وہ حکومت جواب دیتی ہے کہ یہ فوجیں ہم نے تمہارے فائدہ کے لئے رکھی ہیں۔جب وہ یہ بات بیان کرتا ہے تو مغربی حکومت کا نمائندہ حقارت کے ساتھ مسکراتا ہے جس کا مطلب گویا یہ ہے کہ یہ کیسا بے وقوفی کا جواب ہے ، اسے کون مان سکتا ہے۔اس موقع پر وہ ایشیائی حکومت کا سر دار اس سے کہتا ہے کہ میں نے ان سے (مجھ سے) بھی مشورہ لیا ہے اور انہوں نے ( یہ ) مشورہ دیا ہے مگر مجھے پھر پتہ نہیں کہ اس نے کیا بتایا کہ اس نے کیا مشورہ پوچھا تھا اور میں نے کیا دیا۔اس پر اس مغربی حکومت کے نمائندہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ اچھا ان سے بھی تم نے مشورہ لیا ہے۔پھر وہ آپس میں بحث کرتے ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اس وقت میں صورت حالات کو پوری طرح معلوم کر کے گھبراتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ ہمیں بھی اب کسی اقدام کی ضرورت ہے۔جو نہی یہ خیال میرے دل میں آتا ہے ایک صورت میرے سامنے نمودار ہوتی ہے جو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ ہے اور وہ کہتا ہے “ دعا سے کام لینا ہی اچھا ہے، آخر وقت تو معلوم ہو گیا ہے۔اور میں معا خیال کرتاہوں کہ در حقیقت دعا سے کام لینا ہی اچھا ہے۔اس رؤیا کے بعض حصے جو میں نے بیان نہیں کئے اور ان سے بعض دوسرے حصوں کی تشریح ہو جاتی ہے۔بہر حال جو باتیں بتائی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ بعض فتنے بہت زیادہ خطر ناک آنے والے ہیں اور وہ اسلام کے لئے بہت زیادہ مضر ہوں گے۔مگر یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔جیسا کہ رویا میں فرشتہ نے بتایا ہے دعا سے کام لینا ہی اچھا ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ آخر وقت تو معلوم ہو گیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ