خطبات محمود (جلد 24) — Page 68
1943ء 68 خطبات محمود مگر حسان تجھے معلوم ہے کہ جو لوگ مجھ پر حملہ کر رہے ہیں ان کے باپ دادا اور میرے باپ دادا ایک ہی ہیں۔ اگر ان کے باپ دادا کی تو نے ہجو کی تو وہ میرے باپ دادا کی ہی ہجو ہو گی۔ اس لئے میں اس کی کیسے اجازت دے سکتا ہوں۔ حضرت حسان بن ثابت کہنے لگے یا رسول اللہ ! یہ خیال جانے دیجئے۔ میں آخر شاعر ہوں۔ میں اس طرح آپ کے باپ دادا کو ان کے باپ دادا سے الگ کرلوں گا جس طرح مکھن میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ 6 حسان اگر اپنے فن میں کمال رکھنے کی وجہ سے ایسا کر سکتے تھے کہ مکہ والوں کی ہجو کرتے ہوئے وہ اس طرح ہجو کریں کہ رسول کریم صلی علیم کے آباء و اجداد پر کوئی حملہ نہ ہو اور وہ آپ کے آباء و اجداد اور ان کفار کے آباء و اجداد کو الگ کر لیں تو کیا وہ کام جو حسان نے کیا وہ ہمارا خدا نہیں کر سکتا۔ یقیناً جو کام حسان نے کیا تھا ہمارا خدا اس سے بہت زیادہ کر سکتا ہے۔ اور وہ یقیناً ایسے سامان پیدا کر سکتا ہے کہ گو بظاہر شر اور خیر ملا ہوا ہو مگر وہ پھٹک پھٹک کر دونوں کو اس طرح الگ کر دے کہ خیر الگ ہو جائے اور شر الگ ہو جائے۔ اور پھر شر کو فنا کر دے اور خیر کو قائم کر دے۔ اے میرے خدا تو ایسا ہی کر ۔“ (الفضل 6 اپریل 1943ء) 1 مقاومت: مقابله، برابری 66 2 Quisling: اپنے قابض حلیف کے ساتھ تعاون کرنا 4: البقرة: 17 5: تذکرہ صفحہ 458 ایڈیشن چہارم 6: مسلم کتاب فضائل الصحابة باب فضائل حسان بن ثابت رضی الله عنه