خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 62

$1943 62 خطبات محمود ب کبھی بادل آتا تو وہ گھبرا کر ادھر سے ادھر پھر ناشروع کر دیتی۔اس کی ہمسائیاں اس سے پوچھتیں کہ بی بی تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو اور کس لئے فکر سے ادھر ادھر ٹہل رہی ہو۔تو وہ جواب دیتی کہ میری دو بیٹیوں میں سے ایک کی خیر نہیں۔وہ پوچھتیں کس طرح۔تو وہ کہتی اب بادل آیا ہوا ہے۔میں حیران ہوں کہ کیا کہوں بادل بر سے یا نہ برسے۔اگر بادل نہ برسے گا تو میری مالن لڑکی مر جائے گی اور اگر بادل برسے گا تو میری کمہار لڑ کی تباہ ہو جائے گی۔پس ان حالات میں جہاں ایک مومن کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دنیوی سامانوں کے ماتحت جس حد تک اپنی آئندہ بہتری کا انتظام کر سکتا ہے کرے۔وہاں اس کا ایک بڑا ضروری کام یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے فکر اور توجہ سے دعائیں کرے اور کہے خدایا مجھے اپنے چاروں طرف بلائیں ہی بلائیں نظر آتی ہیں اور اگر ایک سکھ نظر آتا ہے تو دس دُکھ اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ان حالات میں یہ میرے بس کی بات نہیں کہ میں دُکھ سے بچ سکوں اور سکھ کو حاصل کر سکوں کیونکہ وہ آپس میں اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ میں انہیں جداجدا نہیں کر سکتا۔یہ تیراہی کام ہے اور میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تُو اپنے فضل سے خود ہی یہ کام میری طرف سے کر دے اور مجھے وہ چیز دے جو میرے لئے ہر لحاظ سے مفید اور بابرکت ہو۔مثلاً جیسے میں نے ابھی بتایا ہے جہاں تک ہمارا تعلق ہے اور جہاں تک ملکی فوائد کا تعلق ہے ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ انگریزوں کی کامیابی اور فتح ہمارے لئے مفید ہے۔مگر انگریزوں کی کامیابی کے ساتھ ہی روس کی کامیابی بھی آجاتی ہے جو دہریت کو قائم کرنے والی اور مذہب کو برباد کرنے والی حکومت ہے۔اور ادھر سے اگر جر من کامیاب ہو جائیں تو اس میں بھی دنیا اور دین کی تباہی نظر آتی ہے۔گویا ہر طرف مصیبت دکھائی دیتی ہے اور ہر بات میں آفت نظر آتی ہے۔ہم اپنے ملکی اور سیاسی حالات کی وجہ سے اور اس تعلق کی بناء پر جو ہمارا انگریزوں کے ساتھ ہے یہ سمجھتے ہیں اور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کی کامیابی میں ہی ہمارے لئے ترقی اور سہولت کی راہیں ہیں۔اسی لئے ہم انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے ہیں مگر نہ معلوم اللہ تعالیٰ نے کس حکمت کے ماتحت روسیوں کو بھی انگریزوں کے پتے باندھ دیا ہے۔شاید اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی نئے تغیر کی بنیا د رکھنا چاہتا ہے۔