خطبات محمود (جلد 24) — Page 4
خطبات محمود 4 * 1943 پس جمعہ کے دنوں کا یہ اجتماع بتا رہا ہے کہ احمدیت کی ترقی کی کوئی مخفی بنیاد 1943ء میں پڑنے والی ہے۔اب کے حج بھی جمعہ کے روز تھا۔ہمارا جلسہ سالانہ بھی جمعہ کے روز شروع ہوا۔اس سال کا پہلا دن بھی جمعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کا دن بھی جمعہ ہے۔جمعہ ساتواں دن ہے اور سورہ فاتحہ کی جس آیت میں عیسائیت کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔وہ بھی ساتویں آیت ہے اور اس مبارک اجتماع سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال احمدیت کی ترقی کے لئے دنیا میں اہم تغیرات ہونے والے ہیں۔ممکن ہے یہ تغیرات ابھی بیچ کی صورت میں ہوں مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کی انگلی اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ سال احمدیت کی ترقی کے لئے تغیرات لے کر آرہا ہے اور اس لئے میں جماعت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سال اپنی قربانیوں میں زیادتی کرے۔تنظیم میں ترقی کرے اور اپنی اصلاح پر بہت زیادہ زور دے۔اور 1943ء کو گزرنے نہ دے جب تک کہ احمدیت ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ مضبوط نہ ہو اور پہلے سے زیادہ ترقی نہ کر جائے۔اور ہماری قربانیاں ان امور کی بنیاد نہ رکھ دیں جو اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔1943ء میں ہی تحریک جدید کا آخری سال شروع ہو گا اور دوستوں کو چاہیئے کہ اس میں بھی پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لیں۔پھر میں چاہتا ہوں کہ اس سال خاص طور پر تبلیغ پر زور دیا جائے اور ہر علاقہ کے لوگ اپنے اپنے ہاں تبلیغ کریں اور ہر ماہ رپورٹ بھجوائیں کہ انہوں نے کہاں کہاں تبلیغ کی ہے۔اور کتنے لوگوں کو سلسلہ میں داخل کیا ہے۔میں قادیان کے لوگوں کو بھی اور سلسلہ کے مرکزی صیغہ دعوۃ و تبلیغ کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ پہلے سے زیادہ سر گرمی کے ساتھ کام کریں۔جو پہلے سستی سے کام لیتے رہے ہیں وہ چست ہو جائیں اور جو پہلے ہی چست ہیں وہ اور زیادہ چست ہو جائیں۔اور یاد رکھیں کہ جب خدا تعالیٰ کی تقدیر کی انگلی اٹھتی ہے تو جو بھی اس کے خلاف جاتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس ہر احمدی اپنی جد وجہد کو بڑھا دے اور ہر جگہ کے دوست تبلیغ پر خاص زور دیں۔عام چندوں میں بھی اور تحریک جدید کے چندوں میں بھی زیادتی کریں تاکام میں روک نہ پید اہو اور ترقی کی طرف جلد قدم اٹھایا جاسکے۔