خطبات محمود (جلد 24) — Page 33
$1943 33 خطبات محمود ادا کرنے کے ابھی ذمہ دار نہیں ہیں جیسا کہ حکومت حاصل ہونے کی صورت میں ہوتے۔پس جہاں تک قانونِ شریعت کا سوال ہے مرکز سلسلہ ابھی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور بوجھوں کو اٹھانے کا ذمہ دار نہیں جن کو اٹھانا اس وقت ضروری ہوتا اگر ہمارے ہاتھ میں حکومت ہوتی۔پس ان باتوں کے پورا نہ کرنے کی صورت میں ہم پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا جن کو پورا کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہوتا ہے مگر جہاں تک تعاون اور اخلاقی مدد کا سوال ہے سلسلہ ایسی باتوں میں حصہ لیتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو مدد دیتا ہے مثلاً آجکل گندم کی دفت ہے امور عامہ الگ اسے مہیا کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور میں اس کے لئے الگ کوشش کر رہا ہوں۔علاوہ اس گندم کے جو دوستوں سے جمع کر کے تقسیم کی گئی جو قیمت خریدنا چاہتے تھے ان کے لئے بھی انتظام کیا گیا۔بعض لوگوں کے لئے قرض کا انتظام بھی کیا گیا۔اب پھر جو دقت در پیش ہے اسے رفع کرنے کی بھی پوری کوشش جاری ہے۔مختلف مقامات پر آدمی بھیجے گئے ہیں۔اخبار میں بھی اعلان کیا جا رہا ہے۔یہ ذمہ داری ہم پر فرض نہیں زائد ہے۔اگر سے کریں تو اچھا ہے۔جو فائدہ لوگوں کو پہنچایا جاسکتا ہے وہ پہنچانا چاہیئے اور پہنچایا جارہا ہے۔مگر یہ ہم پر فرض نہیں۔ہاں جو اچھا کام کیا جا سکتا ہو وہ کرنا چاہیئے خواہ وہ فرض نہ بھی ہو۔دنیا میں لوگ صرف وہی کام نہیں کرتے جو فرض ہوں۔بیوی بچوں کے لئے، دوستوں کے لئے کئی ایسے کام کرتے ہیں جو اُن پر فرض نہیں ہوتے۔بیوی کے لئے زیور بناتے ہیں، یہ فرض نہیں لیکن جو جائز حد تک بیویوں کو خوش کرنے کے لئے یہ کام کر سکتے ہیں وہ کریں تو اچھا ہے اور کرتے ہیں۔باپ اگر بچہ کو سیر کے لئے لے جا سکے تو لے جاتا ہے۔یہ فرض تو نہیں مگر لوگ کرتے ہیں۔اسی طرح جو دوسرے کام فرض نہیں اور جن کا کرنا ہم پر واجب نہیں مگر کئے جائیں تو اچھا ہے۔لوگ انہیں کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے ہیں مگر نفل کے طور پر اور طوعاً کرتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ فرض نہیں اور نہ ہماری ذمہ داری ہے۔ہاں کئے جائیں تو اچھا ہے مگر ایسے کاموں کو فرض پر مقدم کرنا اور ان کے لئے فرض کو ترک کر دینا جائز نہیں۔یہ فرض ہے کہ کسی کام پر دیانتداری کے ساتھ ایسے آدمی مقرر کئے جائیں جو اُس کے اہل ہوں۔لیکن کسی غریب کی مدد کرنا اچھا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس مدد کی