خطبات محمود (جلد 24) — Page 322
خطبات محمود 322 $1943 میرے پاس کچھ نہیں۔سب جائداد میں نے خدا تعالیٰ کو دے دی ہے۔تو دیکھو مومن فضلوں کے وقت بجائے قربانی کم کرنے کے قربانیوں کے میدان میں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔یہ نہیں کہ جب تک رسول کریم صلی لی ایم کی ناراضگی کی وجہ سے تکلیف رہی قربانی کی نیت رکھی اور جب معافی مل گئی اور آرام اور سکون حاصل ہو گیا تو قربانی کو فراموش کر دیا بلکہ جب انہیں معافی ملی انہوں نے اپنی ساری جائداد خدا تعالیٰ کے رستہ میں دے دی۔الله سة تو مومن کو ترقیات کی خبریں سن کر کبھی سست نہیں ہونا چاہیئے بلکہ قربانی میں پہلے سے زیادہ بڑھنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا ہی اسی لئے کیا ہے۔دیکھو رسول کریم على الم سے بڑھ کر اور کون محنتی ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَب۔4 اب تمہاری محنت کے دن ختم ہو گئے ہم نے تمہارے بوجھ تم سے دور کر دیئے اور کامیابیاں تمہیں عطا فرما دیں۔۔پس اب جبکہ تم فارغ ہو گئے ہو تو خوب محنت کرو۔اگر فراغت کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ کام نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جاتا کہ اب تم خوب سوؤ کیونکہ کام ختم ہو گیا مگر یہ نہیں فرماتا بلکہ فرماتا یہ ہے کہ خوب محنت کرو۔گویا مومن کی مثال مدرسہ کے اس طالبعلم کی سی ہوتی ہے جو چھٹی جماعت پاس کر لیتا ہے تو ساتویں جماعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ساتویں پاس کر لیتا ہے تو آٹھویں میں داخل ہو جاتا ہے۔آٹھویں پاس کر لیتا ہے تو نویں میں داخل ہو جاتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ بندوں کے علم محدود ہوتے ہیں۔اس لے چودہ یا سولہ سال کے بعد وہ کہتے ہیں ہم نے تمہیں جتنا پڑھانا تھا پڑھا دیا مگر اللہ تعالیٰ کا علم چونکہ غیر محدود ہے اس لئے مومن اس جہان میں بھی کام کرتا چلا جاتا ہے اور اگلے جہان میں بھی کام کرتا چلا جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کامیابیوں پر یقین رکھو مگر دل میں یہ ارادہ کر لو کہ جب وہ کامیابیاں تمہیں حاصل ہوں گی۔تم ست نہ ہو گے ، غافل نہ ہو گے بلکہ پہلے سے زیادہ قربانیاں کرتے چلے جاؤ گے۔تا اللہ تعالیٰ تمہاری موت کے وقت تم سے خوش ہو اور اگلے جہان میں تمہیں وہ مقام عطا کرے جس پر چل کر ہمیشہ تمہارا قدم