خطبات محمود (جلد 24) — Page 300
1943ء 300 خطبات محمود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللهُمَّ لَا عَلَى وَلَا لِی-1 اے میرے خدا میں اپنے اعمال کی کمزوریوں کی بناء پر تجھ سے کسی ثواب کا طلبگار نہیں میں تجھ سے صرف یہ التجا کرتا ہوں کہ تو میری کو تاہیوں کو معاف کر کے مجھے اپنی سزاؤں سے بچالے۔ اللہ تعالیٰ کے جو احسانات ہم پر ہیں اس کے جو بے انتہا فضل ہم پر ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ان کی قدر کرنے کا دعویٰ ہم نہیں کر سکتے۔ در حقیقت ہم میں سے بہتوں نے ابھی تک تحریک جدید کو سمجھا ہی نہیں جو خدا کی طرف سے دنیا کی کایا پلٹنے کے لئے جاری کی گئی ہے۔ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ابھی نام کے احمدی ہیں۔ احمدیت کی روح کو انہوں نے نہیں سمجھا۔ بہت سے ایسے ہیں جو اخلاص تو رکھتے ہیں مگر ان کے دلوں میں یہ تڑپ نہیں کہ وہ باریکیوں کو سوچتے رہیں اور احمدیت کی طرف سے ان پر جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں انہیں ادا کریں۔ بہت ایسے ہیں جو اخلاص بھی رکھتے ہیں، سوچتے بھی ہیں مگر ان کے دماغوں کی قابلیت ایسی نہیں کہ وہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ بہت ایسے ہیں جن کے دلوں میں اخلاص بھی ہے، غور اور فکر کا مادہ بھی اپنے اندر رکھتے ہیں ، ان کے دماغ بھی اچھے ہیں۔ سوچتے اور غور و فکر سے بھی کام لیتے ہیں اور پھر سوچنے اور غور و فکر سے کام لینے کے بعد ذمہ داریوں کو سمجھتے بھی ہیں مگر پھر بھی ان ذمہ داریوں کو ادا کر داریوں کو ادا کرنے کی پوری طاقت نہیں رکھتے۔ پھر بہت سے ایسے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اخلاص بھی عطا فرمایا ہے، جو سوچنے کی توفیق بھی رکھتے ہیں، جن کے دماغوں میں سمجھنے کا مادہ بھی پایا جاتا ہے، جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق بھی رکھتے ہیں اور جو ہر وقت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے مستعد اور تیار کھڑے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ان پر برکتیں رہیں گی اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ اس دنیا میں بھی خدا ان کے ساتھ ہو گا اور اگلے جہان میں بھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جماعت احمد یہ کے لئے ستون کا کام دے رہے ہیں۔ یہی وہ دیواریں ہیں جن پر وہ چھت قائم ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے امن کے لئے قائم فرمایا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جنہوں نے دیانتداری اور پورے تقویٰ کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لیا ہے ان میں سے اکثر ایسے ہی لوگ ہیں اور وہ خدا کے حضور انہی لوگوں میں شامل کئے جائیں گے۔