خطبات محمود (جلد 24) — Page 3
* 1943 3 خطبات محمود دیکھا کہ بادشاہ کے وہ وزراء اور فوجیں جن پر اس کی شوکت کا مدار تھا غوطے کھاتے ہوئے سمندر کی تہہ میں جارہے تھے۔آج مخالف کہتے ہیں کہ محمد صلی علیم کے زمانہ میں حالات ہی ایسے تھے کہ آپ کا غالب آنا یقینی تھا مگر ہم کہتے ہیں کم بختو! آج تیرہ سو سال بعد تمہیں وہ حالات نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کا غالب آنا لازمی تھا مگر ان لوگوں کو وہ حالات کیوں نہ نظر آتے تھے جن کے ساتھ وہ حالات گزر رہے تھے۔اسی طرح آج جہاں مولوی یہ کہہ رہے ہیں کہ مذہباً عیسائیت ابھی غالب ہے وہاں سیاستدان یہ کہہ رہے ہیں کہ احمدیت نے دنیا کے تغیرات کے لئے کیا کیا ہے ؟ لیکن وقت آئے گا کہ جب لوگ کہیں گے کہ اس زمانے کے حالات ہی ایسے تھے کہ احمدیت کا غالب آجانا لازمی تھا۔اُس زمانہ میں سیاسی تغیرات ایسے ہو رہے تھے ، تمدنی حالات ایسے تھے کہ احمدیت جیت جاتی۔مذہبی خرابی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اس کا رد عمل احمدیت کی تائید میں ہونا ضروری تھا۔مگر وہ حالات آج کہاں ہیں۔اگر کوئی حالات ایسے ہیں تو دشمن کو چاہیے کہ اب ان کا اعلان کرے۔اب تو سب یہی کہتے ہیں کہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ احمدیت جیت سکے۔اس کے غلبہ کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور واقعہ بھی یہی ہے۔حالات بظاہر ایسے نہیں ہیں کہ احمدیت غالب آ سکے۔دن بدن مخالفت بڑھتی جاتی ہے۔ہماری مخالفت ادنی طبقہ سے اٹھی اور آہستہ آہستہ بڑے بڑے لوگوں تک جا پہنچی۔پہلے صرف مذہبی مخالفت تھی مگر اب اقتصادی اور سیاسی مخالفت بھی شروع ہو چکی ہے۔پہلے صرف رعایا تک محدود تھی مگر اب بادشاہ بھی مخالف ہو چکے ہیں اور مخالفت پہلے سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ترقی کی طرف ہمارا قدم اتنا نہیں اٹھتا جتنی مخالفت میں ترقی ہو رہی ہے۔اور حالات ایسے ہیں کہ ہر شخص یہی سمجھ رہا ہے کہ اس جماعت کے بانی کا اور جماعت کا یہ دعویٰ کہ احمدیت ترقی کر جائے گی ایک خام خیال ہے۔لیکن وہ وقت ضرور آئے گا کہ دنیا کے تمام نظام تہ و بالا ہو جائیں گے اور مٹ جائیں گے اور ان کی جگہ احمدیت کا جھنڈ الہرائے گا اور اس وقت سب یہی کہیں گے کہ ایسا ہونا لازمی تھا۔حالات ہی ایسے تھے کہ جن کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکل سکتا تھا۔