خطبات محمود (جلد 24) — Page 267
1943ء 267 خطبات محمود گیا تھا بلکہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر کہ بھوک کی وجہ سے پیٹ باندھ رکھا ہے اپنی ایک ہی بکری کو ذبح کیا اور آپ کو کھانے پر مدعو کیا۔ یہ دعوت اس لئے نہ تھی کہ وہ اور اس کا گھر برکت حاصل کر سکے۔ اپنے گھر میں جو اس نے دعوت کی تو اس لئے کہ رسول کریم صلی الم کو یہ علم نہ ہو کہ اسے آپ کے بھوکا ہونے کا علم ہے۔ ورنہ وہ بکری ذبح کر کے آپ کے گھر بھیج دیتا۔ اُس نے جو آپ کی دعوت اپنے گھر میں کی تو آپ کے جذبات لطیف کو ٹھیس سے بچانے کے لئے۔ تو یہ رنگ اور ہے۔ پس ہمارے دوستوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دعوتوں وغیرہ میں میر اوقت ضائع نہ کیا جائے۔ بعض مجھے یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ آپ نہ مانا کریں مگر وہ اس بات کو ذہن میں نہیں رکھتے کہ جماعت کے دوستوں کے ساتھ میرے جو تعلقات ہیں ان کے لحاظ سے کسی کی دعوت کو رڈ کرنا بھی تو مشکل ہوتا ہے۔ وہ جو مشورہ دیتے ہیں وہ بھی صحیح ہے میں رڈ کر سکتا ہوں مگر دوستوں کے ساتھ میرے محبت کے جو تعلقات ہیں اُن کی موجودگی میں رڈ کرنے سے بھی تو مجھے تکلیف ہو گی۔ پس دوستوں کو چاہیے کہ ان باتوں میں رسول کریم صلی علیم کی سنت اور صحابہ کے طریق عمل کے مطابق چلیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جو دوست اس بات کو سمجھتے ہوئے اپنی اس خواہش کو خود ہی رڈ کر دے گا یا پیچھے ڈال دے گا اسے ضرور ثواب ہو گا۔ اور اس کے لئے برکت کا موجب ہو جائے گا۔ رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ ہے کہ الاعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ 3 اور ایسے شخص کی نیت اور ارادہ اس کے لئے برکت کا موجب ہو جائے گا۔ صحابہ ایک جنگ میں رض شریک ہونے کے لئے جارہے تھے۔ رستہ ایک کانٹوں کے جنگل میں سے گزرتا تھا۔ کیکر کے بڑے بڑے لمبے کانٹے تھے جن کی وجہ سے دو قدم بھی چلنا محال ہو رہا تھا۔ تمام صحابہ کے پاؤں سے خون بہہ رہا تھا اور پگڑیاں پھاڑ پھاڑ کر پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ دو قدم چلتے اور پھر بیٹھ جاتے اور یوں نظر آتا تھا کہ یہ کوئی فوج نہیں جو لڑائی کے لئے جارہی ہے بلکہ کسی ہسپتال کے مریض ہیں۔ جب ایک مقام پر جاکر قیام کیا تو بعض صحابہ کے دل میں خیال گزرا کہ آج ہم نے اتنی تکلیف اللہ تعالیٰ کی راہ میں اٹھالی ہے آج ہمیں بہت ثواب حاص حاصل ہو گا۔ رسول کریم صلی الله یم علیہم