خطبات محمود (جلد 24) — Page 24
خطبات محمود 24 $1943 وعدے ابھی تک مرکز میں نہیں پہنچے۔گو یہ جماعتیں بالعموم گاؤں کی ہیں جن کے چندے بہت کم ہوتے ہیں اور جن کے لئے لسٹوں کا فوری طور پر پر کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ زمیندار آخری وقت تک اپنی آمد کا صحیح اندازہ لگانے کے انتظار میں رہتا ہے تاکہ اسے علم ہو سکے کہ وہ قربانی میں کتنا حصہ لے سکتا ہے۔مگر بہر حال جو مدت اس غرض کے لئے مقرر ہے اس میں وعدوں کی لسٹوں کا آجانا ضروری ہے۔پس میں ان تمام جماعتوں کو جن کی طرف سے وعدوں کی لسٹیں ابھی تک نہیں پہنچیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ 31 جنوری تک اپنی لسٹیں مکمل کر کے یکم فروری کو وعدے پوسٹ کر دیں۔اسی طرح جو افراد باقی رہ گئے ہیں وہ اور جنہوں نے اب تک تحریک جدید کے چندہ کے سلسلہ میں اپنا کوئی وعدہ نہیں لکھوایا ان کو بھی توجہ دلا تا ہوں کہ اب وعدہ لکھوانے کی میعاد میں بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ممکن ہے اُن میں سے کسی نے اپنا وعدہ تو بھجوا دیا ہو مگر مرکز میں نہ پہنچا ہو۔اس لئے وہ دیکھ لیں کہ انہیں وعدوں کی وصولی کی رسید پہنچ گئی ہے یا نہیں۔اگر انہیں رسید نہ پہنچی ہو تو وہ دوبارہ اپنے وعدے بھجوا دیں تاکہ وہ دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔اس کے علاوہ جن جماعتوں نے شروع میں ہی اپنے وعدوں کی لسٹیں فوری طور پر مرتب کر کے بھجوادی تھیں اور جن کی جماعتوں کے سارے افراد اس میں حصہ لے چکے ہیں اُن کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اُن لسٹوں پر دوبارہ نظر ڈال لیں اور جو دوست اس میں پہلے حصہ لے چکے ہیں مگر انہوں نے اپنی طاقت اور وسعت سے کم حصہ لیا ہے اُن کو دوبارہ تحریک کریں۔اسی طرح اگر کوئی دوست رہ گیا ہو تو اسے بھی تحریک کریں اور اس طرح وہ بھی اپنی لٹیں ہر لحاظ سے مکمل کر کے 31 جنوری تک مرکز میں پہنچادیں۔ان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ہماری جماعت میں ایسے لوگ ہیں جنہیں جنگ کی وجہ سے نئی ملازمتیں ملی ہیں یا اُن کے عہدوں میں ترقی ہوئی ہے جس حد تک لسٹیں یہاں آچکی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے اُن میں سے ایک اچھی تعداد نے خدا تعالیٰ کے فضل سے کوشش کی ہے کہ وہ اپنی زیادہ آمدنیوں کے مطابق چندہ لکھوائے مگر کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی آمدنی کے مطابق چندے نہیں لکھوائے۔