خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 209

خطبات محمود 209 * 1943 چھوڑا تو اس کے پاس وہ کہاں سے آئے تھے۔اسی وہم میں مبتلا ہوتے ہوئے میں نے ایک شخص کو دیکھا ہے۔جو نمازوں کے تارک تھے اور زکوۃ بھی ادا نہیں کرتے تھے مگر کہتے تھے کہ میں نے پہلے زمانہ میں حضرت صاحب کی بڑی خدمت کی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ عبادت کو قبول کرنے کی طاقت ہم نے کہاں سے لی تھی۔مٹی نقش کو اس لئے قبول کرتی ہے کہ خدا نے اسے ایسا بنایا ہے۔مٹی کے اندر تو خدا نے طاقت دی ہے وہ اثر قبول کر لیتی ہے لیکن لوہا کیوں نہیں قبول کر لیتا؟ اس لئے کہ اس کے اندر خود کوئی طاقت نہیں۔اور خدا نے اس کو قبول کرنے کی طاقت عطا نہیں فرمائی۔ایک بزرگ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه خود بر سر بازار خریدار برآمد اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ خدا ہی مٹی ہے اور وہی بناتا ہے تو یہ بیہودہ ہو گا اور اگر یہ مفہوم کہ خدا ہی سب کچھ دیتا ہے اور بناتا ہے اور پھر لے لیتا ہے اور دیتا ہے اور پھر خود ہی کہتا ہے کہ میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں تو یہ درست ہے۔تو انسانی اعمال اور خدمات سارے خدا تعالیٰ کے ہی کئے ہوئے کام ہیں۔بعض دفعہ وہ تحفہ دے کر کہتا ہے کہ یہ تم خود کھا لو اور بعض دفعہ وہ ہمیں تحفہ دے کر کہتا ہے کہ یہ میرے سامنے پیش کرو۔خدا تعالیٰ بندے کے ساتھ جس قسم کی تجارت کا معاملہ کرتا ہے وہ عجیب ہے۔وہ پہلے ایک چیز بندہ کو دیتا ہے۔پھر کہتا ہے کہ اسے میرے پاس بیچو۔حالانکہ آپ ہی وہ چیز دیتا ہے اور آپ ہی اس کا خریدار بن جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ - 3 حالا نکہ مال اور جان سب کچھ اللہ تعالی ہی کا دیا ہوا ہے۔بعض بندے بھی خدا تعالیٰ کی نقل کرتے ہیں لیکن نقصان دہ طور پر۔ہندوستان میں بعض تاجر زکوۃ عجیب طور سے نکالتے ہیں۔زکوۃ کی اشرفیاں یا روپے وغیرہ نکال کر گھڑے میں ڈال دیتے ہیں اور اوپر گندم ڈال کر ملاں کو بلا کر کہتے ہیں کہ یہ زکوۃ لے لو۔جب وہ لے جانے لگتا ہے تو کہتے ہیں کہ تم کہاں گھڑے کو اٹھائے پھرو گے۔ہم تمہیں اس گھڑے کی زیادہ قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ان کو ہمارے پاس ہی رہنے دو۔اس ملاں کو اس حقیقت