خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 20

خطبات محمود 20 $1943 پس ایک طرف ہماری جماعت کو نیکی، تقویٰ، عبادت گزاری، دیانت ، راستی اور عدل و انصاف میں ایسی ترقی کرنی چاہیئے کہ نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی اس کا اعتراف کریں۔اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تحریکات جاری کی ہیں۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان میں کہاں تک کامیابی ہو گی۔بہر حال یہی ایک ذریعہ مجھے نظر آیا جو میں نے اختیار کیا اور ان سب کا یہ کام ہے کہ نہ صرف اپنی ذات میں نیکی قائم کریں بلکہ دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔اور جب تک حتمی طور پر جبر و ظلم تعدی، بددیانتی، جھوٹ وغیرہ کو نہ مٹا دیا جائے اور جب تک ہر امیر غریب اور چھوٹا بڑا اس ذمہ داری کو محسوس نہ کرے کہ اس کا کام صرف یہی نہیں کہ خود عدل و انصاف قائم کرے بلکہ یہ بھی کہ دوسروں سے بھی کرائے، خواہ وہ افسر ہی کیوں نہ ہو ، ہماری جماعت اپنوں اور دوسروں کے سامنے اچھا نمونہ قائم نہیں کر سکتی۔اسی طرح اگر جماعت تعداد کے لحاظ سے بھی ترقی نہ کرے تو دنیا فوائد حاصل نہیں کر سکتی۔وہ بادل جو صرف ایک گاؤں پر برس جائے اتنا مفید نہیں ہو سکتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بادل قادیان یا زیادہ سے زیادہ چند بستیوں پر برس جائے اور چند کھیت ہی اس سے فائدہ اٹھائیں تو یہ امر یاد رکھے جانے کے قابل نہیں ہو گا لیکن اگر وہ دنیا کے تمام ممالک پر اپنی بارانِ رحمت کے چھینٹے برسا کر شاداب کر دے تو دنیا اس کے نام کو عزت اور احترام سے یاد رکھے گی۔پس ہمارا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اس پیغام کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوا دنیا کے کناروں تک پہنچائیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارا محکمہ تبلیغ بھی اس کام کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتا۔اس کا زور اتنا ہی ہے جتنا تین چار گاؤں کی پنچائت کا ہوتا ہے۔نہ محکمہ تبلیغ میں وہ جوش ہے ، نہ مبلغوں میں اور نہ جماعتوں میں۔ابھی چند لوگوں کو جماعت میں داخل کر کے ہم خوش ہو جاتے ہیں۔میں نے الفضل میں پڑھا کہ پیغامیوں کے ساتھ سارے سال میں صرف دو سو اشخاص شامل ہوئے ہیں اور ہماری جماعت میں دو ہزار۔مگر کیا کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ سال میں دو ہزار کے معنے ہیں ایک صدی میں دولاکھ۔ایک سو صدی یعنی دس ہزار سال میں دو کروڑ اور یہ بھی کوئی تعداد ہے۔ہمارے لئے سال میں دو تین بلکہ چار ہزار احمدی بنانا تو افسوس کی بات ہونی