خطبات محمود (جلد 24) — Page 193
1943ء 193 خطبات محمود یوں تو تغیرات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ انسان کبھی کام عجلت سے کرتا ہے، کبھی ڈر سے کرتا ہے، کبھی جلدی کرتا ہے اور کبھی انتظار کر لیتا ہے مگر ہمارے لئے ایک ایک دن کی دیر زہر قاتل ہے۔ دنیا میں اس قسم کے تغیرات ہو رہے ہیں کہ اگر ان کی طرف جلد توجہ نہ کی گئی تو پھر ہمیں ترقی کے لئے کئی سو گئے قربانی کرنی پڑے گی۔ خصوصاً اس وقت سستی کرنا جبکہ خشیت پیدا ہو چکی ہے حد درجہ کی غفلت ہو گی۔ اب مثلاً جرمنی میں ، انگلستان میں، روس میں لاکھوں موتیں ہوئی ہیں۔ صرف اٹلی میں پانچ فیصدی موتیں ہو چکی ہیں۔ بعض ملکوں میں دس فیصدی اور بعض میں پندرہ فیصدی بلکہ بعض میں تو بیس فیصدی تک پہنچ گئی ہیں۔ ممکن ہے بعد میں قتل کا بازار اور بھی گرم ہو۔ غرض لڑائی میں لوگ الگ قتل ہوتے ہیں اور جاسوسوں کو الگ قتل کیا گیا ہے۔ اور آزادی کی کوشش کرنے والے مزید بر آں مارے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ ہزاروں لاکھوں تک مر چکے ہوں۔ پھر قحط سے بھی مرے ہوں گے۔ تو جس ملک کی آبادی بیس فیصدی مر جاتی ہے اس کا خیال کر کے بھی دل دہل جاتا ہے۔ قادیان کی آبادی چودہ ہزار کے قریب ہے۔ اس میں سات آدمیوں کو ہیضہ ہوا تھا ان میں سے پانچ مر گئے ہیں۔ ان پانچ کی وجہ سے خطوں میں، تاروں میں اور فون پر جو گھبراہٹ کا اظہار کیا جاتا رہا ان سے بے حد پریشانی پائی جاتی تھی مگر چودہ ہزار کی آبادی میں سے پانچ کا مر جانا اس کا صرف یہ مطلب بنتا ہے کہ سوا دو ہزار میں سے ایک آدمی مرا۔ اور سو میں سے 1/22 آدمی۔ جس کی وجہ سے اس قدر شور و شر ہوا۔ کجا یہ کہ سو میں سے 1/22 اور کجا یہ کہ 10/100۔ بلکہ بعض جگہ اس سے بھی زیادہ۔ تو جس ملک میں ایسی تباہی آئی ہو کہ کام کرنے والی آبادی کا بیشتر حصہ مر چکا ہو ان کا کیا حال ہو گا کیونکہ جہاں 20 فیصدی تباہی ہوئی ہے اس کا تو یہ مطلب بنتا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک آدمی۔ دیکھو ہر پانچویں کا تباہ ہو جانا کتنی دہشت پیدا کرتا ہے۔ اس کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ پانچواں حصہ تباہ ہوا ہے یا دسواں تباہ ہوا ہے کیونکہ وہ حصہ جو کام کرنے ولا ہوتا ہے وہ تو کُل آبادی کا 20، 25 فیصدی ہی ہوتا ہے۔ پس اس تباہی کا مطلب یہ ہے کہ بعض ملکوں کے کام کرنے والوں میں سے 85 فیصدی مر گئے ہیں۔ خیر کچھ بوڑھے بھی کام کرنے والے ہوتے ہیں اگر ان کو نکال دیا جائے تو وہاں