خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 163

$1943 163 خطبات محمود کہ جسے میں تھال سمجھ رہا تھا وہ باجرے کی روٹی نکل آئی۔گویا گھر والوں نے کھانے کے لئے باجرے کی روٹی اور ساتھ دودھ کا کٹورا بھیج دیا اور سمجھ لیا کہ ان کو اس سے زیادہ اور کس چیز کی ضرورت ہے۔آخر میر صاحب بھی سمجھ گئے کہ کیا بات ہوئی ہے اور انہوں نے گھر جا کر کہا کہ یہ لوگ اس کھانے کے عادی نہیں ہیں ان کے لئے چاول پکوا کر بھجواتے تو وہ سمجھتے کہ ان کے لئے کھانا آیا ہے۔اب دیکھو کہ ان کی سندھ میں پندرہ سو ایکڑ زمین ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ساٹھ مربعوں کے مالک ہیں۔اگر کسی پنجابی کے پاس ساٹھ مربعے ہوں تو اس کا دماغ پھر جاتا ہے۔عام طور پر ہمارے ہاں زمینداروں میں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں صاحب بڑے رئیس ہیں ان کے پاس چار مربعے ہیں یا پانچ مربعے ہیں مگر ان کے پاس ساٹھ مربعے تھے اور زمین بھی نہری تھی۔مگر باوجود اس کے ان کی غذا یہی تھی کہ دودھ کے ساتھ باجرے کی روٹی کھالی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ سندھ میں دیر تک اسلامی حکومت رہی ہے اور چونکہ سندھ ایک اسلامی ملک تھا اس لئے کھانے پینے کے معاملہ میں مسلمان اس قدر اسراف سے کام نہیں لیتے تھے جس قدر اسراف سے وہ لوگ کام لیا کرتے تھے جو غیر ممالک میں تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں اور ان میں مہمان نوازی کی عادت بہت حد تک پائی جاتی ہے۔اور یہ صرف سندھ پر منحصر نہیں۔جس جس ملک میں مسلمان زیادہ ہیں وہاں مہمان نوازی کی عادت لوگوں میں پائی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسراف نہیں کرتے۔مہمان گھر پر آ جائے تو انہیں ذرا بھی گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی اور جو کچھ گھر میں پکا ہو وہ اس کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں۔ہمارے ملک میں غیر مذاہب کے اثر کے نیچے مہمان نوازی کا جذبہ بہت کم ہو گیا ہے اور ہر شخص خواہ اسے کتنی بڑی تنخواہ ملتی ہو یہ سمجھتا ہے کہ میر اگزارہ اس تنخواہ میں نہیں ہو سکتا۔کسی کو اگر ہزار روپیہ تنخواہ ملتی ہے تو وہ فوراً حساب لگالیتا ہے کہ ڈیڑھ سو روپیہ کو ٹھی پر خرچ آئے گا، ڈیڑھ دو سو ملازموں کی تنخواہوں پر صرف ہو جائے گا۔پھر اپنا دھوبی رکھنا پڑے گا جو کپڑے دھوئے گا، اپنا نائی رکھنا پڑے گا جو روزانہ ڈاڑھی مونڈے گا۔پھر اتنا روپیہ بیوی کے عطروں اور پوڈروں اور فیتوں پر خرچ آئے گا اور اس قدر روپیہ فرنیچر پر صرف ہو گا۔غرض اسی طرح وہ حساب لگا تا چلا جاتا ہے اور آخر میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ آمد تو ہزار روپیہ ہے