خطبات محمود (جلد 24) — Page 152
1943ء 152 خطبات محمود ہے اور مخلوقات علیحدہ چیز ہے۔ مگر یہ مقام قلب کی صفائی سے حاصل ہوتا ہے۔ پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہم اس مقصد کو جو اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے تب تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اپنے دلوں کو اتنا صاف نہ کر لیں اور روحوں کو اتنا بلند نہ کر لیں کہ خدا تعالیٰ کا وجود مخلوق سے بالکل جدا ہو کر نظر آنے لگے۔ اسی صورت میں دنیا میں خالص توحید کا قیام ہو سکتا ہے۔ ہم دنیا میں جو کچھ کانوں سے سنتے اور آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ سب ہمیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت تک لے جاتا ہے ، احدیت تک نہیں۔ یہی دھوکا ہے وحدانیت کا جس سے بعض مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ آنحضرت صلی اللی کم بھی خدا تعالیٰ کی صفات رکھتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک صاحب یہاں بڑا آتے تھے ۔ وہ روزانہ یہ بحث کرتے تھے کہ آنحضرت صلی العلم عالم الغیب تھے۔ ان کے سر پر رومی ٹوپی تھی۔ ایک دن ایک شخص نے اسے بلایا اور کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ آنحضرت صلی العلم کو اس کا علم ہوا اس شخص نے بغیر کوئی شرم محسوس کئے کہہ دیا ہاں ضرور ہوا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ وحدانیت تک جاتے ہیں احدیث تک نہیں پہنچتے کہ جس پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ بے شک انسان بھی ایک حد تک خالق ہے ، رازق ہے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ الگ ہے اور مخلوق الگ ہے۔ دونوں میں کوئی اتحاد ذاتی ہر گز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں تو اشتراک ہے اور واحد ہونے کا لفظ ہم دوسروں کے لئے بھی بول سکتے ہیں۔ ہم رسول کریم صلی علیم کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے تن تنہا دنیا کا مقابلہ کیا۔ ہم کہتے ہیں فلاں شخص اکیلا گھر میں ہے ان فقروں کا اگر عربی میں ترجمہ کریں تو واحد کا لفظ استعمال کریں گے ، احد نہیں کہہ سکتے۔ احد کے معنے یہ ہیں کہ دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ توحید ہے جسے ہم نے دنیا میں قائم کرنا ہے اور یہ اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک ایمان کامل نہ ہو اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین نہ ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کا اصل مقام احدیت کا ہے اور انسان کو جیسا اتحاد باللہ وحدانیت کے لحاظ سے ہے احدیت سے نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جو انبیاء کو ان کے مقام پر رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ بعض لوگ احدیث کے اس مقام کو نہیں سمجھتے اور دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بعض نیک بندوں نے اس مقام کی وجہ سے بڑی بڑی تکالیف اٹھائی ہیں۔ حضرت اسماعیل شہید کو بعض