خطبات محمود (جلد 24) — Page 142
1943ء 142 خطبات محمود کریں گے تو امراء سے بہت زیادہ ثواب حاصل کریں گے۔ ان تمام امور کا نقطہ مرکزی در حقیقت ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ ہے۔ گویا اصل سوال یہ ہے کہ ان فرائض کی ادائیگی یا عدم ادائیگی سے ہم اس بات کا ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ ہمارا خدا اور بعث بعد ا بعد الموت پر کس قدر ایمان ہے۔ اگر ہمارا خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور ہم یقین رکھتے ہوں کہ مرنے کے بعد ایک ابدی زندگی ہے جس میں ہمارے اعمال کا ہمیں بدلہ ملے گا تو نیکی کے کرتے وقت یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ یہ کام امیر کرے یا غریب ۔ صحابہ میں ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ ان میں بجائے اس کے کہ آپس میں امیر اور غریب کی کشمکش ہوتی وہ ایک دوسرے سے ثواب میں آگے نکل جانے کی کوشش کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ جس قدر ثواب حاصل ہو انہیں ہی حاصل ہو۔ رض ایک دفعہ بعض غرباء رسول کریم صلی العلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ! امراء چندے دیتے ہیں ، زکو تیں دیتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں مگر ہم ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں اسی طرح وہ پڑھتے ہیں، جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں اسی طرح وہ رکھتے ہیں۔ جس طرح ہم جہاد میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح وہ ہوتے ہیں۔ گویا جس قدر نیکی کے کام ہم کرتے ہیں وہ تمام کام وہ بھی کرتے ہیں مگر جن نیکی کے کاموں میں وہ حصہ لیتے ہیں ان میں ہم اپنی غربت کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکتے۔ یا رسول اللہ ! ہمیں بھی کوئی ایسی ترکیب بتائیے جس سے ہم ثواب میں اپنے امیر بھائیوں سے کم نہ رہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ امراء کو ثواب کا کوئی زیادہ موقع نہیں ملتا تھا۔ غریب اپنی غربت میں جو تھوڑا بہت چندہ دیا کرتے تھے خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا اتنا ہی ثواب تھا جتنا امراء کے بڑے بڑے چندوں گا مگر نیک کاموں میں حصہ لینے کا انہیں اس قدر شوق تھا کہ وہ سمجھتے تھے شاید مقدار میں بھی پورا نہ اتر نا ثواب کی کمی کا موجب ہو جاتا ہے۔ رسول کریم صلی العلیم نے ان کی دلجوئی کی اور فرمایا تم ہر نماز کے بعد 33 دفعہ سُبْحَانَ الله ، 33 دفعہ الْحَمْدُ لِله اور 34 دفعہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ تم ثواب میں امراء کے برابر ہو جاؤ گے اور جنت میں ان سے پہلے داخل ہو گے۔ چنانچہ ہر نماز کے بعد