خطبات محمود (جلد 24) — Page 110
1943ء 110 خطبات محمود محوریوں کی نہیں بلکہ اس کے ہر ایک واقعہ سے وہ اثر قبول کرتا ہے جو اسلام اور احمدیت پر پڑ سکتا ہے۔ وہ اس نگاہ سے اس کو نہیں دیکھتا کہ دنیا کی قومیں لڑتی ہیں اور کوئی آگے بڑھتی ہے یا پیچھے ہٹتی ہے بلکہ اس نظر سے دیکھتا ہے کہ ان قوموں کے پیچھے پیچھے خدا تعالیٰ کے فرشتے چلے آ رہے ہیں۔ ان تمام تغیرات کو وہ آسمان کی طرف لے جاتا اور ان میں ایک روحانی جنگ کو مشاہدہ کرتا ہے اور اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ نادان انسان اسے دیکھتا اور حیران ہوتا ہے کہ یہ اتنا کیوں متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ ان امور کو نہیں دیکھ سکتا جو دوسرا خدا کا بندہ دیکھ رہا ہے اور اس کی آنکھوں پر وہ دور بین نہیں جو دوسرے کی آنکھوں پر ہے۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دعاؤں پر بہت زور دیں، بہت دعائیں کریں کیونکہ دنیا میں بہت بڑے انقلاب پیدا ہونے والے ہیں۔ اپنے لئے بھی بہت دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بھی انقلابی روح پیدا کر دے تا ہم اس انقلاب کی اہمیت کو سمجھ سکیں جو ہمارے ذریعہ علمی، اقتصادی، سیاسی اور مذہبی لحاظ سے دنیا میں پیدا کیا جانا مقدر ہے۔ خوب یاد رکھو کہ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان ، فلاسفر اور دیگر علوم کے ماہر تمہارے سامنے لائے جائیں گے ۔ وہ تمہارے شاگرد ہونے والے ہیں۔ پس اس وقت کے لئے تیاری کرو ایسا نہ ہو کہ تم بھی پٹھان کی طرح کا کلمہ پڑھانے والے ثابت ہو۔ وہ وقت آنے سے پہلے اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرو کہ ایسا کلمہ پڑھانے کے اہل بن سکو جس قسم کا کلمہ پڑھانا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ مُنہ سے لا إِلَهَ إِلَّا الله کہہ دینے کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں۔ منہ سے کلمہ پڑھ لینا تو وہی بات ہے جو پیغامی کہتے ہیں کہ جب کسی نے مُنہ سے کلمہ پڑھ دیا تو وہ کافر کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر محض منہ سے کلمہ پڑھ لینے سے انسان مسلمان ہو سکتا ہے تو یہ تو کوئی مشکل بات نہیں۔ مگر یاد رکھو مُنہ سے کوئی لفظ ادا کر دینا کوئی بات نہیں۔ جس کلمہ سے انسان مسلمان بن سکتا ہے وہ کلمہ کی اصل حقیقت ہے جسے اگر تم سمجھتے ہو تو تم دنیا کے استاد بن سکتے ہو لیکن اگر خود نہیں سمجھتے تو دوسروں کو کیا سکھاؤ گے۔ صرف منہ سے لا إِلهَ إِلَّا الله تو مصری اور عرب اور دوسرے اسلامی ممالک کے عیسائی بھی تم سے بہت اچھا کہہ سکتے ہیں