خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 109

$1943 109 خطبات محمود ابھی وقت ہے اور دعا کی قبولیت کا موقع ہے۔دعا کی قبولیت کے بھی مواقع ہوتے ہیں۔ایک شخص کے لئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بیٹا دے۔اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے سو فیصدی یہ دعا ضرور قبول ہو جائے گی مگر یہ بھی نہیں کہ اس کا پورا ہو نا ممکن نہیں ہے۔کئی ایسے لوگوں کے ہاں جن کے پہلے لڑکے نہیں ہوتے دعا سے ہو جاتے ہیں مگر۔بھی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ ایک مہینہ سے چالیسویں دن تک لڑکی یا لڑکے کی شکل معین ہوتی ہے اور اس اثناء میں وہ تبدیلی کر دیتا ہے لیکن اگر ہم نویں مہینہ میں جبکہ جنین کے تمام زنانہ اعضاء مکمل ہو چکے ہیں یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ لڑکا دے تو یہ وقت اس دعا کی قبولیت کا نہیں ہو گا یا کسی آدمی کا آخری وقت آپہنچا ہو۔اسے فرشتے سامنے نظر آرہے ہوں، غرغرہ شروع ہو چکا ہو تو اس وقت اگر یہ دعا کی جائے کہ یہ بچ جائے تو یہ دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہو گا۔لیکن اگر آدھ گھنٹہ پہلے دعا کی جائے تو بیچ سکتا ہے۔گو لوگ یہ سمجھ بھی نہیں سکتے کہ یہ دعا سے بچا ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے بچنا ہی تھا۔تو ایک وقت دعا کی قبولیت کا نہیں ہوتا اور ایک ہوتا ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ آخر وقت تو معلوم ہو گیا ہے۔اس کے معنے یہی ہیں کہ جو وقت بتایا گیا ہے اس کے فاصلہ سے معلوم ہو تا ہے کہ ابھی دعا کا وقت ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو دور کر سکتا ہے۔یا ان کی ایسی شکل بدل سکتا ہے کہ وہ اسلام اور احمدیت کے لئے مضر نہ رہیں۔اس رؤیا کے بعض حصے میں نے بیان نہیں کئے جن سے مضمون بالکل واضح ہو جاتا ہے مگر بہر حال اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ایسے تغیرات ہونے والے ہیں کہ جو عقلمند اور دردمند دلوں کو دہلا دینے والے ہوں گے۔اور گو وہ دنیوی اور جنگی نوعیت کے ہوں گے مگر احمدیت اور اسلام کے لئے اتنا خطرناک اثر رکھنے والے ہوں گے کہ جسے دیکھ کر جنون کی کیفیت طاری ہو جائے مگر جو شخص نہ پیشگوئیوں کو پڑھتا یا سنتا ہے نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقاصد سے واقف ہے، نہ قرآن کریم یا احادیث کو کبھی پڑھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اس کے لئے کوئی فرق نہیں۔وہ صرف اتنا ہی جانتا ہے کہ لڑائی ہو رہی ہے اور لوگ مر رہے ہیں مگر وہ جو جانتا ہے کہ یہ لڑائی صرف انگریزوں وجرمنوں کی نہیں یا اتحادیوں اور