خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 85

خطبات محمود 85 $1943 غرض جس نے نماز پڑھی اس کو 48 دفعہ یا کم از کم 30 دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھنی پڑتی ہے۔اور اس کے بغیر نماز ہوتی ہی نہیں۔سوائے اس کے کہ اسے سورۂ فاتحہ نہ آتی ہو۔مگر ایک مسلمان کے لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مجھے سورۃ فاتحہ نہیں آتی۔ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ سیکھے۔ہاں اگر یہ حالت ہو کہ اسے آہی نہ سکتی ہو تو علیحدہ بات ہے۔مثلاً ایک شخص بڑھا ہو اور اس کی عقل ماری گئی ہو یا آخری عمر میں وہ اسلام لایا ہو یا پاگل ہو یا بچہ ہو تو ایسے معذوروں کو الگ کر کے باقی سب کے لئے لازمی ہے کہ 30 سے لے کر 48 مر تبہ تک سورہ فاتحہ کو نماز ہے میں دہرائے۔اس سورۃ میں ایک مومن خدا کے حضور کھڑے ہو کر علاوہ اور باتوں کے دو باتیں اپنی طرف سے کہتا ہے۔یہ دو باتیں اس کے دو دعوے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر کرتا ہے۔باقی باتیں دعوے نہیں ہوتے بلکہ یا تو وہ حقائق بیان کرتا ہے مثلاً کہتا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعلمين 1 سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو رَبُّ الْعلمین ہے۔اس میں وہ خد اتعالیٰ کے متعلق ایک واقعہ بیان کرتا ہے۔اس کا اپنا کوئی کام نہیں۔اسی طرح الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 2 یہ سب واقعات اور حقائق ہیں۔اور یا پھر وہ خد اتعالیٰ سے مانگتا ہے۔مثلاً کہتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 3 اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔یہ بھی اس کا اپنا کام نہیں۔وہ اپنی طرف صرف دو دعوے منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ 4 اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ان دو دعووں کے سوا سورہ فاتحہ میں انسان کی طرف سے اور کوئی دعویٰ نہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار ہے۔سو انسان کہے نہ کہے اللہ تعریف والا ہے۔وہ کہے نہ کہے اللہ رحمن ہے۔وہ کہے نہ کہے اللہ رحیم ہے۔وہ کہے نہ کے اللہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔اس کے نہ کہنے سے خدا کی ربوبیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔وہ اگر نہ کہے کہ تُو رحمن ہے تو اس کی رحمانیت میں کیا فرق پڑ جائے گا۔خدا تعالی کے بادل اسی طرح برسیں گے جس طرح پہلے برستے تھے۔اس کا سورج بدستور چڑھتا رہے گا۔اس کی ہوا بغیر روک کے چلتی رہے گی۔انسان کے ہاتھ جن سے پکڑتا ہے ، اس کے پاؤں جن سے وہ چلتا ہے ، اس کے کان جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں