خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 321

* 1943 321 خطبات محمود الله سة ہلے ہیں یا نہیں۔مگر وہ تو خدا کا حکم تھا کہ ان لوگوں سے تعلق نہ رکھا جائے۔اس خدائی حکم کے بعد رسول کریم صلی ال نیلم کے ہونٹ بھلا کس طرح ہل سکتے تھے۔وہ کہتے ہیں جب میں دیکھتا کہ رسول کریم صلی اللہ نیلم کے ہونٹ نہیں ہلے۔تو مجھے ایک جنون کا سا دورہ ہوتا اور میں اٹھ کر باہر چلا جاتا اور دل میں کہتا رسول کریم صلی علی و کم تو بڑے مہربان ہیں۔معلوم ہوتا ہے آپ نے میرے سلام کی آواز نہیں سنی۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد میں پھر مجلس میں آتا اور کہتا السّلامُ عَلَيْكُمْ۔اور پھر رسول کریم صلی الم کے ہونٹوں کی طرف دیکھتا۔مگر جب وہ مجھے ہلتے نظر نہ آتے تو تھوڑی دیر بیٹھ کر پھر باہر چلا جاتا اور کہتا رسول کریم صلی ا ہم تو بڑے شفیق ہیں یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ سلام کی آواز سنیں اور جواب نہ دیں۔چنانچہ میں پھر باہر جاتا اور پھر واپس آکر اسی طرح السّلامُ عَلَيْكُمْ کہتا۔اور روزانہ ایسا ہی کیا کرتا لیکن رسول کریم صل ال تم کبھی سلام کا جواب نہ دیتے مگر وہ کہتے ہیں کبھی کبھی یکدم رسول کریم صلی یم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر نہایت شفقت سے پڑ رہی ہوتی تھی۔اس سے میرے دل کو تسلی ہو جاتی تھی۔آخری دن میں اپنے گھر میں لیٹا ہوا تھا کہ مجھے زور سے ایک شخص کی آواز سنائی دی کہ اے مالک تمہارا گناہ خدا نے بخش دیا۔وہ کہتے ہیں میں باہر آیا تو ایک شخص گھوڑا دوڑاتے ہوئے میرے پاس پہنچا اور اس نے کہا کہ آج نماز صبح کے بعد رسول کریم صلی اللہ ہم نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ تینوں کو خدا نے معاف کر دیا۔( یہ نماز پڑھ کر جلدی آگئے تھے ) تب ایک شخص گھوڑے پر چڑھ کر یہ خبر دینے کے لئے دوڑ پڑا۔مگر دوسرے نے زیادہ ہوشیاری سے کام لیا اور اس نے ایک اونچی جگہ پر چڑھ کر آواز دے دی کہ اے مالک خدا نے تجھے معاف کر دیا۔اس پر انہوں نے کپڑوں کا ایک جوڑا قرض لیا اور جس شخص نے انہیں سب سے پہلے یہ خوشخبری سنائی تھی انہیں تحفہ کے طور پر دے دیا اور کہا میں نے یہ منت مانی ہوئی تھی کہ جو شخص میری معافی کی خبر مجھے سب سے پہلے سنائے گا اسے ایک جوڑا تحفہ کے طور پر دوں گا۔وہ خو د چونکہ مالدار تھے اس لئے انہوں نے کہا میں جو مانگ کر تمہیں یہ جوڑا دے رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نیت کر لی تھی کہ جب خدا مجھ پر فضل کرے گا اور مجھے معافی مل جائے گی اُس وقت میں اپنی ساری جائداد خدا کے رستہ میں دے دوں گا۔چنانچہ اب