خطبات محمود (جلد 24) — Page 286
* 1943 286 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا زمانہ پایا ہے اس کے پیش نظر ایک نوجوان کا جسے اس کا کروڑواں حصہ بھی میسر نہیں آیا اس قسم کا فقرہ کہنا قابل شرم بات ہے۔اس جواب سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں تک تاریخ دانی کا سوال ہے اس نوجوان کو علم تاریخ سے کوئی واقفیت نہیں اور جب کسی شخص کو کسی علم کی واقفیت نہ ہو تو جب اس سے کوئی ایسا سوال کیا جائے جس کا تعلق اس علم سے ہو تو اس کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں اس میدان کا سوار نہیں ہوں۔جب کوئی شخص اپنے آپ کو ہر فن مولا ظاہر کرنا چاہے اور تیس مار خان بننا چاہے اور یہ بتانا چاہے کہ اس سے جو بھی سوال کیا جائے وہ اس کا جواب دے سکتا ہے تو بڑی مشکل پیش آسکتی ہے۔واقعات اور چیز ہیں اور علم دوسری چیز ہے۔واقعات میں تو جھوٹے سچے کا فرق معلوم ہو سکتا ہے۔ایک واقعہ ہوتا ہے ایک شخص اسے صحیح طور پر بیان کر دیتا ہے اور دوسرا اسے غلط رنگ میں پیش کرتا ہے۔مگر علم ایسی چیز ہے کہ چونکہ اس کا تعلق واقعات سے نہیں ہوتا اس لئے یہ جائز نہیں ہوتا ہم اپنی مرضی سے جو رائے چاہیں قائم کر لیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ ہم نے تفسیر بالرائے سے منع فرمایا ہے۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ اس ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ جو تفسیر رسول کریم صلی الکریم نے بیان فرمائی ہے اس پر اکتفا کیا جائے اور جو تفسیر احادیث میں آئی ہے صرف وہی بیان کی جائے مگر یہ صحیح نہیں۔اگر صرف اس تفسیر پر اکتفا کیا جائے جو احادیث میں بیان شدہ ہے تو قرآن کریم کا نصف سے زیادہ حصہ بغیر تفسیر کے رہ جائے گا کیونکہ نصف سے زیادہ حصہ قرآن کریم کا ایسا ہے جس کی کوئی تفسیر آنحضرت صلی للی نام سے مروی نہیں اور جن حصوں کی تفسیر مروی ہے وہ بھی تمام پہلوؤں کے متعلق نہیں۔پس اگر تفسیر بالرائے کی ممانعت کے حکم کے یہی معنی لئے جائیں کہ جو تفسیر رسول کریم صلی الی یوم نے بیان کی ہے صرف وہی بیان کی جائے آگے نہ کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم قرآن کریم کی تفسیر کسی کے آگے بیان کر ہی نہیں سکتے۔اگر چہ ہم واقعات سے ثابت کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم کا نصف سے زیادہ حصہ ایسا ہے جس کی کوئی تفسیر رسول کریم صل الم سے مروی نہیں مگر میں کہتا ہوں جانے دو اس بات کو ، اور فرض کرو کہ صرف ایک