خطبات محمود (جلد 24) — Page 274
$1943 274 خطبات محمود کوئی اس کے ہاتھوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور کوئی اسے مذاق کر رہا ہے۔مگر آج اسے کوئی لڑکا دکھائی نہ دیا۔دوپہر تک تو اس نے انتظار کیا مگر جب دیکھا کہ اب تک بھی کوئی لڑکا اپنے گھر سے نہیں نکلا تو وہ دکانوں پر گئی اور ہر دکان پر جا کر کہتی آج تمہارا گھر گر گیا ہے، بچے مر گئے ہیں۔آخر کیا ہوا کیا ہے کہ وہ نظر نہیں آتے۔تھوڑی دیر کے بعد جب اس طرح اس نے ہر دکان پر جا کر کہنا شروع کیا تو لوگوں نے کہا گالیاں تو اس طرح بھی ملتی ہیں اور اُس طرح بھی۔چھوڑو بچوں کو ، ان کو قید کیوں کر رکھا ہے۔آپ یہ حکایت بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کا حال بھی اپنے رنگ میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔دنیا ان کو چھیڑتی ہے، تنگ کرتی ہے ، ان پر ظلم و ستم ڈھاتی ہے اور اس قدر ظلم کرتی ہے کہ ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ لوگ ظلم سے کام لے رہے ہیں انہیں نہیں چاہیے کہ ایسا کریں مگر فرما یا وہ بھی دنیا کو نہیں چھوڑ سکتے۔جب دنیا ان کو نہیں ستاتی تو وہ خود اس کو جھنجھوڑتے اور بیدار کرتے ہیں تاکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہو اور ان کی باتوں کو سنے۔تو دنیا نے ہر قسم کی مخالفت کی مگر باوجود اس کے آپ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے باز نہ آئے اور ہر قوم اور ہر ملت کو آپ نے وہ پیغام پہنچایا جس پیغام کا پہنچانا خدا تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا ہوا تھا۔یہاں اپنے آپ کو ہلاکت اور خطرے میں ڈالنا یقیناً مفید تھا کیونکہ اس کے متعلق ایک دن کا انتظار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک دن بھی اپنے دعویٰ کو نمرود کی خاطر نہیں چھوڑ سکتے تھے۔نہ صرف اس وجہ سے کہ یہ ایک گناہ تھا اور اس کا ارتکاب ان کے لئے کسی صورت میں بھی جائز نہیں تھا بلکہ اس لئے بھی کہ ابراہیم کو کیا معلوم تھا کہ شاید وہی دن ان کی قوم کی ہدایت کا دن ہو یا و ہی دن ان کی موت کا دن ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن کے لئے بھی اپنے دعویٰ کو ملتوی نہیں کر سکتے تھے۔نہ صرف اس وجہ سے کہ یہ سراسر نا جائز اور گناہ تھا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ موسیٰ کو کیا معلوم تھا کہ شاید وہی دن فرعون کی ہدایت کے لئے مقدر ہو یا وہی دن ایسا ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی موت مقدر ہو۔یہی حال حضرت عیسی علیہ السلام کا تھا۔یہی حال رسول کریم صلى الم کا تھا اور یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔یہ بھی اپنے اپنے