خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 273

$1943 273 خطبات محمود آپ کے مخالف تھے۔مولوی آپ کے مخالف تھے۔گدی نشین آپ کے مخالف تھے۔عوام آپ کے مخالف تھے۔اور امراء اور خواص بھی آپ کے دشمن تھے۔غرض چاروں طرف مخالفت کا ایک طوفان برپا تھا۔لوگوں نے آپ کو بہت کچھ سمجھایا۔بعض نے دوست بن بن کر کہا کہ آپ اپنے دعووں میں کسی قدر کمی کر دیں۔بعض نے کہا کہ اگر آپ فلاں فلاں بات چھوڑ دیں تو سب لوگ آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے مگر آپ نے ان میں سے کسی کی بھی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ اپنے دعویٰ کو پیش فرماتے رہے۔اس پر شور ہو تا رہا، ماریں پڑتی رہیں، قتل ہوتے رہے مگر باوجود ان تمام تکالیف کے اور باوجود اس کے کہ آپ کا مقابلہ ایک ایسی دنیا سے تھا جس کا مقابلہ کرنے کی ظاہری سامانوں کے لحاظ سے آپ میں قطعا طاقت نہ تھی پھر بھی آپ نے اپنے مقابلہ کو جاری رکھا بلکہ مجھے خوب یاد ہے میں نے متعدد بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا کہ نبی کی مثال تو ویسی ہی ہوتی ہے جیسے لوگ کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں ایک پاگل عورت رہتی تھی جب بھی وہ باہر نکلتی چھوٹے چھوٹے لڑکے اکٹھے ہو کر اسے چھیڑ نے لگ جاتے ، اس کے ساتھ مذاق کرتے ، اسے دق کرتے اور اسے بار بار تنگ کرتے۔وہ بھی مقابلہ میں ان لڑکوں کو گالیاں دیتی اور بد دعائیں دیتی۔آخر ایک دن گاؤں والوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ عورت مظلوم ہے اور ہمارے لڑکے اسے ناحق تنگ کرتے رہتے ہیں۔مظلومیت کی حالت میں یہ انہیں بددعائیں دیتی ہے کہیں ایسا نہ ہو اس کی بددعائیں کوئی رنگ لائیں۔ہمیں چاہیئے کہ اپنے لڑکوں کو روک لیں تاکہ نہ وہ اسے تنگ کریں اور نہ یہ بد دعائیں دے۔چنانچہ اس مشورہ کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کل سے سب گاؤں والے اپنے لڑکوں کو گھروں میں بند رکھیں اور انہیں باہر نہ نکلنے دیں۔چنانچہ دوسرے دن سب لوگوں نے اپنے اپنے لڑکوں سے کہہ دیا کہ آج سے باہر نہیں نکلنا اور مزید احتیاط کے طور پر انہوں نے باہر کے دروازوں کی زنجیریں لگا دیں۔جب دن چڑھا اور وہ پاگل عورت ب معمول اپنے گھر سے نکلی تو کچھ عرصہ تک وہ ادھر ادھر گلیوں میں پھرتی رہی۔کبھی ایک گلی میں جاتی اور کبھی دوسری میں مگر اسے کوئی لڑکا نظر نہ آیا۔پہلے تو یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ کوئی لڑکا اس کے دامن کو گھسیٹ رہا ہے، کوئی اسے چٹکی کاٹ رہا ہے، کوئی اسے دھکا دے رہا ہے،