خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 268

$1943 268 خطبات محمود نے اس بات کو اُن کے چہروں سے پڑھ لیا اور فرمایا اے عزیز و! مدینہ میں کچھ لوگ ہیں، تم کسی وادی سے نہیں گزرے کہ وہ تمہارے ساتھ نہ گزرے ہوں اور کوئی ایسا ثواب نہیں جو تم کو ملا اور ان کو نہ ملا ہو۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پیدل ہم چلتے رہے ، کانٹوں سے ہمارے پاؤں چھلنی ہوئے، خون ہمارا بہا اور ثواب مدینہ میں بیٹھے ہوئے لوگ لے جائیں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ وہ لنگڑے، پانچ اور اندھے یا کم استطاعت لوگ ہیں جن کے دل اس جہاد میں شریک ہونے کے تم سے کم خواہشمند نہ تھے مگر وہ اپنی اس خواہش کو اپنی معذوریوں کی وجہ سے پورا نہ کر سکے اور اپنی نیات کی وجہ سے ثواب حاصل کر رہے ہیں۔4 پس یہ ایسا وقت ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالی اسلام کی خدمت کے کام کو بہترین رنگ میں مکمل کرا دے اور جب وقت آئے تو وہ ہم کو سوتا ہوانہ پائے بلکہ تیار اور تجربہ کار پائے اور ایسانہ ہو کہ ہم عدم تیاری یا نا تجربہ کاری کے باعث اس لڑائی میں شریک نہ ہو سکیں یا ہوں تو بجائے اسلام کو کوئی فائدہ پہنچانے کے اس کے لئے ایک ایسا بار بن جائیں جو سمندر میں پھینکے جانے والے آدمی کی گردن میں باندھ دیا جاتا ہے۔یہ دن خشیت اور خوف کے دن ہیں۔آج ہماری تمام آرزوئیں اور خواہشات اسلام کی زندگی اور آنحضرت صلی للی کم کی عزت کے لئے وقف ہونی چاہئیں۔ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ سوچے اور خوب غور کرے۔شاید اسی کے دل میں کوئی ایسی بات آجائے جو اسلام کے لئے مفید ہو اور شاید اسی کے دل میں کوئی ایسی بات آجائے جو اسلام پر سے اس اعتراض کو دور کر سکے جو صداقت کے قبول کئے جانے میں روک بن رہا ہے۔اور ہر ایک کو چاہیے کہ دعاؤں میں لگا رہے کہ شاید اسی کی دعا اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کرنے والی ہو اور دنیا کو تباہی سے بچانے کا موجب بن جائے۔یہ دن ایسے بھیانک ہیں کہ اس سے پہلے ایسے بھیانک دن پہلے نہیں آئے اور یہ راتیں ایسی تاریک ہیں کہ اس سے قبل ایسی تاریک راتیں نہیں آئیں مگر خوب یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کا سورج رات کی تاریکی کے بعد ہی نمودار ہوتا ہے۔لیکن یہ سورج وہ نہیں کہ جو رات کی وجہ سے طلوع کرے بلکہ رات کی دعاؤں کے نتیجہ میں طلوع کرتا ہے۔پس اس کے طلوع کرنے کے لئے دعائیں کرو۔جتنے زور کی ہماری دعائیں ہوں گی اتنی ہی جلدی اللہ تعالیٰ کا الله سة