خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 254

$1943 254 خطبات محمود بھی پیدا کر دیتے مگر چونکہ ایسے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا گیا اس لئے ”تقاضائے عمر “ سمجھ کر ہی بات ختم کر دی گئی اور انصار اللہ میں بیداری نہ پید اہوئی۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کے مخلصین کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔یاد رکھو! اگر اصلاح جماعت کا سارا دارو مدار نظار توں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی لمبی نہیں ہو سکتی۔یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا کہ ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ایک حصہ غافل ہو گا اور ایک حصہ ہوشیار ہو گا۔خدا تعالیٰ نے دنیا کو گول بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات داخل ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوئے اور ایک حصہ جاگے۔کبھی دنیا کا ایک حصہ جاگتا ہے اور دوسراسوتا ہے۔کبھی دوسرا جاگتا ہے اور پہلا سوتا ہے۔چاہے تم ساری دنیا کو فرشتوں سے بھی لا کر بھر دو پھر بھی ایسا ہی ہو گا کہ آدھی دنیا سوئے گی اور آدھی دنیا جاگے گی۔ایسی صورت میں کام کو زندہ اور جاری رکھنے کا بہترین طریق یہ ہوا کرتا ہے کہ کام دونوں کے سپر د کر دیا جائے۔اس دنیا کے بھی سپر د کر دیا جائے جو ایک طرف ہے اور اُس دنیا کے بھی سپر د کر دیا جائے جو دوسری طرف ہے۔اگر ایک طرف سوئے گی تو دوسری طرف جاگے گی اور اگر دوسری طرف سوئے گی تو پہلی طرف اس کام کو زندہ رکھے گی۔یہی تقدیر اور تدبیر کا باریک نکتہ ہے۔خدا تعالیٰ سوتا نہیں۔مگر خدا کبھی سونے والے کی طرح ہو جاتا ہے جیسے فرمایا أُفطِرُ وَآصُومُ۔تاکہ دنیا کو بیداری کا موقع دے۔اور جب دنیا تھک جاتی ہے تو خدا اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔یہی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔کبھی عوام سوتے ہیں اور نظام جاگتا ہے اور کبھی نظام سوتا ہے اور عوام جاگتے ہیں۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام بھی جاگتا ہے اور عوام بھی جاگتے ہیں۔اور وہ وقت بڑی بھاری کامیابی اور فتوحات کا ہوتا ہے۔وہ گھڑیاں جب کسی قوم پر آتی ہیں جب نظام بھی بیدار ہوتا ہے اور عوام بھی بیدار ہوتے ہیں تو وہ اس قوم کے لئے فتح کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لئے کامیابی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لئے ترقی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ شیر کی طرح گر جتی اور سیلاب کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے۔ہر روک جو اس کے راستہ میں حائل ہوتی ہے اسے مٹاڈالتی ہے۔ہر عمارت جو اس کے سامنے آتی ہے اسے گرا دیتی ہے۔ہر چیز جو اس کے