خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 210

$1943 210 خطبات محمود کا علم ہوتا ہے لیکن وہ اس خیال سے کہ میرے جیسے اس کو اور بہت سے ملاں مل سکتے ہیں۔اگر میں نے یہ قیمت نہ لی تو یہ اور کسی کو دے دے گا۔وہ تاجر کی بتائی ہوئی قیمت پر ہی وہ گھڑا اسے دے دیتا ہے۔تو اس قسم کے فعل کے بعد یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ زکوۃ ادا ہو گئی۔یہ تو خدا کے فعل کی بھونڈی نقل ہے۔اللہ تعالیٰ تو پہلے بندہ کو تحفہ دیتا ہے پھر اس کو زیادہ قیمت پر خریدتا ہے۔مگر یہ لوگ خدا کا مال دوسرے کو اپنا کر کے دیتے ہیں اور پھر ادنی قیمت پر اسے خریدتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی تجارت کی عجیب کیفیت ہے۔وہ خود ہی چیز دیتا ہے اور پھر اس کو خود ہی خریدتا ہے۔اور پھر فرماتا ہے۔لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَبِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِید - 4 یعنی اگر تم ہماری اس تجارت پر شکر گزار ہو گے تو اس شکر گزاری کے نتیجہ میں ہم تم کو مزید قیمت دیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ بندہ کو تحفہ دیتا ہے اور پھر خریدتا ہے۔اور پھر جب بندہ شکر گزار ہوتا ہے تو دوسری دفعہ اس کی قیمت دیتا ہے۔پھر وہ شکر گزار ہوتا ہے تو تیسری دفعہ اس شے کی قیمت دیتا ہے۔اسی طرح بار بار ہو تا رہتا ہے۔غرضیکہ خد اتعالیٰ کے تحائف بے شمار ہیں۔جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔ایران کے ایک بادشاہ کا یہ قاعدہ تھا کہ جب وہ کسی کام پر خوش ہو تا تو زہ کہتا۔اور جس کے متعلق زہ کہتا اسے تین ہزار درہم انعام دیتا۔ایک دفعہ وہ ایک بڑھے کے پاس سے گزرا جو ایک درخت لگا رہا تھا۔بادشاہ نے کہا کہ تمہاری تو عمر بھی بہت ہو گئی ہے اور درخت وہ لگا رہے ہو جس کے پھل کھانے کی تمہیں امید نہیں۔بڑھے نے کہا کہ بادشاہ ہمارے اگلوں نے لگائے، ہم نے کھائے۔ہم لگائیں گے ، ہمارے بچے کھائیں گے۔بادشاہ نے کہا زہ اور اس کے بعد انعام دیا۔بڑھے نے کہا کہ بادشاہ آپ نے کہا تھا کہ میں پھل نہیں کھاؤں گا میں نے تو اپنے درخت کا پھل وقت سے پہلے کھالیا۔بادشاہ نے کہا زہ اور پھر انعام دیا۔بڈھے نے کہا دیکھئے بادشاہ اور لوگ تو اپنے درخت کا پھل سال میں ایک دفعہ کھاتے ہیں لیکن میں نے ابھی ابھی دو دفعہ کھالیا۔بادشاہ نے کہازہ اور انعام دے کر کہا کہ اس بڑھے کے پاس سے چلو ورنہ یہ ہمیں لوٹ لے گا۔یہ تو انسانی خزانے والے کا حال تھا لیکن اللہ تعالیٰ ہر بندے کے ساتھ اسی طرح کرتا ہے۔اس کو کہتا ہے کہ اگر تم شکر کرو