خطبات محمود (جلد 24) — Page 191
خطبات محمود نے ہی نکالنا ہے۔191 $1943 یہ دونوں ہی چیزیں ایسی ہیں کہ انسانی اعمال کی تکمیل کے ساتھ دونوں کا ہونالازم ہے کہ انسان تدبیر بھی کرے اور تقدیر پر بھی نظر رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلطان عبد الحمید صاحب کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ جب یونان پر حملہ ہوا تو مشورہ کے لئے معاملہ وزیروں کے پیش ہوا۔وہ چونکہ لڑنا نہیں چاہتے تھے اس لئے انہوں نے کہا یہ بھی کر لیا ہے اور یہ بھی انتظام ہو گیا ہے مگر فلاں بات نہیں ہو سکی۔وہ بادشاہ کو یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم دشمن سے لڑنا نہیں چاہتے۔انہوں نے کوئی بہانہ ہی بنانا تھا۔سو اس طرح اس کے دل کو جنگ سے پھرانے کی کوشش کی۔سلطان نے کہا اچھا تم نے یہ بھی کر لیا ہے اور یہ بھی کر لیا ہے۔جب تم نے سارا انتظام کر لیا ہے صرف ایک انتظام نہیں کیا تو اسے خدا پر چھوڑ دو۔آخر کچھ تو خدا پر بھی چھوڑنا چاہیے۔آخر چھ ماہ میں ہی وہ جنگ جیت گئے اور اس عرصہ میں یورپ کی فوجیں جن کا یونان سے وعدہ تھا اس کی مدد کو بھی نہ پہنچ سکیں۔پس انسان کو چاہیے کہ کوشش کرے تدبیر سے کام لے مگر تقدیر پر بھی نظر رکھے۔خدانو کر تو نہیں ہے کہ انسان اپنے ہاتھ باندھ کر بیٹھ جائے تو بھی تقدیر اس کا نتیجہ اس کے حق میں نکالے۔خدا بادشاہ ہے وہ نتیجہ نکالے گا مگر انسان کو چاہیے کہ کوشش کرے اور پھر تو کل سے کام لے۔پس مومن کو اپنے کام میں تدبیر کو بھی اور تقدیر کو بھی نہیں بھولنا چاہیے بلکہ چاہیے کہ وہ اپنی تدبیروں میں لگا ر ہے اور تقدیر کو بھی مد نظر رکھے۔جو آدمی تدبیر کو بھولتا ہے اور تقدیر پر نظر رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا امتحان لیتا ہے اور جو تقدیر کو بھول کر تدبیر ہی پر نظر رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو چیلنج دیتا ہے۔اور یہ دونوں حالتیں خطر ناک ہیں۔مگر وہ شخص جو دونوں کام کرتا ہے خدا تعالیٰ کا فضل بھی اور اس کا ازلی قانون بھی اس کی تائید میں لگ جاتے ہیں۔“ (الفضل 30 ستمبر 1943ء) 1: الفاتحة:4