خطبات محمود (جلد 24) — Page 15
خطبات محمود 15 $1943 زیادتی ہو گئی بلکہ اسے نکلوانے پر سینکڑوں ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے کیونکہ یہ زائد گوشت مفید نہیں بلکہ مضر ہوتا ہے۔اس طرح جب کسی کی ہڈیوں میں خم پیدا ہو جائے ، وہ بڑھ جائیں اور انسان کبڑا ہو جائے تو وہ اس پر خوش نہیں ہوتا کہ میر احجم بڑھ گیا بلکہ ہڈیوں کے خم اور ان کی زیادتی کو دور کرنا چاہتا ہے۔تو بڑھنا ہر حالت میں اچھا نہیں ہوتا۔اس وقت بڑھنا اچھا ہوتا ہے جب بڑھوتی انسان کے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے مفید ہو رہی ہو۔اگر وہ بڑھوتی اس کے لئے اور اس کے ہم جنسوں کے لئے مفید نہیں تو وہ خود بھی اور اس کے ہم جنس بھی یہی وشش کریں گے کہ اسے روک دیں۔جن جماعتوں کی زیادتی دنیا کے لئے مفید ہو اللہ تعالیٰ بھی ان کی بڑھوتی پر خوش ہوتا ہے اور بنی نوع انسان بھی ان کے بڑھنے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔صحابہ نے جس وقت رومی حکومت کے ساتھ مقابلہ کیا اور بڑھتے بڑھتے یروشلم پر جو عیسائیوں کی مذہبی جگہ ہے قابض ہو گئے اور پھر اس سے بھی آگے بڑھنا شروع ہوئے تو عیسائیوں نے یہ دیکھ کر کہ ان کا مذہبی مرکز مسلمانوں کے ہاتھ آگیا ہے ان کو وہاں سے نکالنے کے لئے آخری جد وجہد کا ارادہ کیا اور چاروں طرف مذہبی جہاد کا اعلان کر کے عیسائیوں میں ایک جوش پیدا کر دیا گیا۔اور بڑی بھاری فوجیں جمع کر کے اسلامی لشکر پر حملہ کی تیاری کی۔ان کے اس شدید حملہ کو دیکھ کر مسلمانوں نے جو ان کے مقابلہ میں نہایت قلیل تعداد میں تھے عارضی طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور اسلامی سپہ سالار نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ دشمن اتنی کثیر تعداد میں ہے اور ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا اس لشکر کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔اس لئے آپ اگر اجازت دیں تو جنگی صف بندی کو سیدھا کرنے اور محاذ جنگ کو چھوٹا کرنے کے لئے اسلامی لشکر پیچھے ہٹ جائے تا تمام جمعیت کو یکجا کر کے مقابلہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ ہم نے ان علاقوں سے جو فتح کر رکھے ہیں لوگوں سے ٹیکس بھی وصول کیا ہوا ہے۔اگر آپ ان علاقوں کو چھوڑنے کی اجازت دیں تو یہ بتائیں کہ اس ٹیکس کے متعلق کیا حکم ہے۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ محاذ کو چھوٹا کرنے اور اسلامی طاقت کو یکجا کرنے کے لئے پیچھے ہٹنا اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں لیکن یہ یاد رکھو کہ ان علاقوں کے لوگوں سے ٹیکس اس شرط پر وصول کیا گیا تھا کہ