خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 143

$1943 143 خطبات محمود انہوں نے تحمید، تسبیح اور تکبیر کہنی شروع کر دی۔آخر ہوتے ہوتے امیروں کو بھی پتہ لگ گیا کہ رسول کریم صلی ال ہم نے انہیں اس طرح تسبیح ، تحمید اور تکبیر کہنے کا ارشاد فرمایا ہے اور وہ بھی نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر کہنے لگ گئے۔یہ دیکھ کر غرباء پھر رسول کریم صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان امراء کو روکیے یہ کیوں تسبیح و تحمید اور تکبیر کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں کسی کو نیکی سے نہیں روک سکتا۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کریں۔2 تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ثواب حاصل کرنے اور نیکی میں بڑھنے کے رستے کھول رکھے ہیں۔صحابہ میں چونکہ نیکی کے کاموں میں مقابلہ ہوا کرتا تھا اس لئے وہ ترقی کرتے چلے گئے مگر اس زمانہ میں لوگ نیکی کے کاموں میں مقابلہ نہیں کرتے۔اس زمانہ کی ساری مصیبتوں کی وجہ یہی ہے کہ لوگ کہتے ہیں فلاں اپنا حق کیوں ادا نہیں کرتا۔یہ فکر نہیں کی جاتی کہ انہوں نے خود دوسروں کے حقوق کو کہاں تک ادا کیا ہے۔اُس زمانہ میں لوگوں کی یہ ذہنیت تھی کہ ہم اپنا حق ادا کر دیں۔دسرا شخص اگر حق ادا نہیں کرتا تو اس کی ذمہ داری اس پر ہے۔مگر مغربی ذہنیت یہ ہے کہ تو اپنا حق لے یہ نہ دیکھ کہ دوسرے کے حق کو تُو نے ادا کیا ہے یا نہیں۔مگر اسلام اس کے بالکل الٹ سبق دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ دوسرے کا حق دو اور اس بات کو نظر انداز کر دو کہ دوسرا تمہارا حق تمہیں دیتا ہے یا نہیں۔جب تک بنی نوع انسان کی ذہنیتوں میں یہ فرق رہے گا اس وقت تک دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سب لوگ یکساں روپیہ کمائیں۔لازماً کوئی کم کمائے گا اور کوئی زیادہ کمائے گا۔کوئی امیر ہو گا اور کوئی غریب ہو گا مگر اس مشکل کا حل یہ نہیں کہ امیروں سے روپیہ چھین کر غریبوں کو دے دیا جائے بلکہ اصل علاج یہ ہے کہ ذہنیتوں میں تبدیلی پیدا کی جائے اور ہر شخص اپنے اپنے فرائض کو پہچانے۔وہ یہ نہ دیکھے کہ دوسرے نے اس کے حق کو ادا کیا ہے یا نہیں بلکہ یہ دیکھے کہ اس نے دوسرے کے حق کو کہاں تک ادا کیا ہے۔جس دن یہ ذہنیت پیدا ہو گئی اُس دن تمام جھگڑے اور فسادات آپ ہی آپ مٹ جائیں گے اور دنیا امن و آرام کا سانس لینے لگ جائے گی۔پس یہ ایام ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے تمہیں اس بات کا موقع دیا ہے کہ تم اپنے اپنے