خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 141

$1943 141 خطبات محمود مدد کرتا ، خواہ وہ امیر تھا یا غریب، نادار تھا یا زردار۔اپنی اپنی نسبت سے اس کی مدد کرنے میں سب کی ذمہ داری برابر ہو گی۔ہاں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر غریب کسی شخص کی جان بچائے گا تو وہ امیر سے زیادہ ثواب کا مستحق ہو گا کیونکہ غریب کے پاس کم طاقت تھی اور امیر کے پاس زیادہ طاقت تھی۔ایک امیر آدمی اگر کسی کو دو آنے کے پیسے دیتا ہے تو بے شک وہ بھی ثواب کا مستحق ہے مگر ایک غریب جو دو آنے کے پیسے دیتا ہے وہ اس سے زیادہ ثواب کا مستحق ہے کیونکہ اس نے دو آنے کے پیسے بھی دیئے اور ایک فاقہ بھی برداشت کیا، اپنا بھی اور اپنے بیوی بچوں کا بھی۔گویا اس نے علاوہ مال کے تین یا چار جانوں کی بھی قربانی کی۔مگر امیر نے صرف پیسے دیئے۔پس صاف بات ہے کہ امیر کو کم ثواب ملے گا اور غریب کو زیادہ ثواب ملے گا۔گو دوسرے کی جان بچانے میں بظاہر دونوں برابر ہوں گے۔اسی طرح جو لوگ مالدار ہیں ان کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑی ہیں۔در حقیقت مال اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت آتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسان اس مال کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق خرچ کرتا ہے یا اس مال کو خرچ نہیں کرتا۔اگر وہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق خرچ کرتا ہے تو وہ امانت کو عمدگی سے خرچ کرنے والا قرار پاتا ہے اور اگر مناسب مقامات پر خرچ نہیں کرتا تو وہ امانت میں خیانت کرنے والا قرار پاتا ہے۔اسلام نے اسی لئے مال جمع کرنے کی اجازت دی ہے کہ انسان اس مال کو ضرورت حقہ پر خرچ کرے۔اگر وہ خرچ نہیں کرتا تو وہ مال ایسا ہی نا جائز ہو جاتا ہے جیسے بولشوزم والے کہتے ہیں کہ مال کا افراد کے پاس رہنا جائز نہیں۔اسلام نے اگر مال جمع کرنے سے منع نہیں کیا اور بولشوزم کے اصول کو ناجائز قرار دیا ہے تو اسی لئے کہ وہ کہتا ہے ہم نے یہ ذمہ داری امراء کے سر ڈال دی ہے کہ وہ اپنے اموال غرباء کی ضروریات کے لئے خرچ کریں۔اگر وہ خرچ نہیں کرتے تو خیانت سے کام لیتے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنتے ہیں۔پس تکلیف کے ایام میں امیر اور غریب دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہئیں اور ان فرائض کو ادا کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کئے گئے ہیں۔اگر امر اء اپنے فرائض کو ادا کریں تو وہ یقیناً اس بات کے حقدار ہیں کہ اپنے فرض کو عمدگی سے ادا کریں اور غرباء کا خیال رکھیں اور غرباء کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ دوسروں کی مدد