خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 116

$1943 116 خطبات محمود کہ ہمارے ملک میں یکدم لوگوں نے سولہ روپے بھاؤ کر دیا تھا مگر جب آسٹریلیا سے گندم آگئی تو وہ لوگ جنہوں نے سولہ سولہ روپیہ بھاؤ مقرر کیا ہوا تھا یکدم نو اور دس پر آگئے۔پس جس حد تک غیر معمولی اضافہ قیمت ہے اس پر اس گندم نے ضرور اثر ڈالا ہے مگر یہ اثر ایسا نہیں جس کی وجہ سے گندم مناسب نرخوں پر پہنچ جائے۔جہاں تک میر ا اندازہ ہے اور میں اس سفر سندھ میں بھی دیکھتا چلا آیا ہوں گندم کی فصلیں اس دفعہ بہت اچھی ہوئی ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں گندم اچھی ہو جانے کی وجہ سے نئی فصل کا ریٹ سات، آٹھ روپیہ ہو گا اور اگر فصل اچھی نہ ہوئی تو شروع میں ہی دس گیارہ روپے تک پہنچ جائے گی۔جہاں تک زمینداروں کا تعلق ہے ان کے لئے پریشانی کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ گندم ان کے گھر کی چیز ہے۔ان کے لئے ہدایت صرف اتنی ہی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق گندم روک لیں۔مجھے نہایت ہی تعجب ہوا کہ گزشتہ سال باوجود میری سخت ہدایتوں کے کہ ہر شخص کو اپنی ضرورت کے لئے گندم جمع رکھنی چاہیئے۔قادیان کے ارد گرد کے بعض دیہات کے احمدیوں نے ہمیں درخواستیں دینی شروع کر دیں کہ ہمارے لئے غلہ مہیا کیا جائے۔انہیں تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ ہمیں غلہ مہیا کر کے دیتے کیونکہ ہمیشہ گاؤں والے غلہ مہیا کرتے اور شہروں والے کھایا کرتے ہیں مگر انہوں نے الٹا ہم سے غلہ مانگنا شروع کر دیا۔اگر وہ میری ہدایت کے مطابق کام کرتے تو وہ نہ صرف اپنی ضرورت کے لئے گندم جمع رکھتے بلکہ ہیں پچیس فیصدی زائد گندم بھی محفوظ رکھتے اور سمجھتے کہ قادیان ہمارے قریب ہے ممکن ہے دورانِ سال قادیان والوں کو گندم کی ضرورت پیش آجائے۔ایسی صورت میں ہم اپنی زائد گندم انہیں دے سکیں گے۔مگر انہوں نے ایسانہ کیا بلکہ ارد گرد کے دیہات والوں نے ہمیں درخواستیں دینی شروع کر دیں کہ ہمارے لئے غلہ مہیا کیا جائے۔اس کے معنے یہ تھے کہ انہوں نے میری ہدایات کو نہ پڑھا، نہ سوچا اور نہ ان پر غور کیا۔ہاں باہر کے بعض لوگوں نے اس موقع پر قادیان والوں کی مدد کی ہے اور انہوں نے میری ہدایات پر نہایت اخلاص سے عمل کیا ہے۔چنانچہ میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں جس کی کوئی اور نظیر مجھے ساری جماعت میں نہیں ملی اور وہ چودھری عبد اللہ خان صاحب داتہ زید کا والوں کی مثال ہے۔