خطبات محمود (جلد 23) — Page 582
* 1942 582 خطبات محمود کھڑے ہیں جو کہتا ہے کہ محمد صلى الله لم نَعُوذُ بِالله دجال ہیں۔آخر خدا نے اسی وقت انہیں اس کی سزا دے دی اور وہ اس طرح کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی عدالت میں اس امید سے آئے تھے کہ مرزا صاحب کو نَعُوذُ بِاللہ ہتھکڑی لگی ہوئی ہو گی اور وہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے کیونکہ یہ مقدمہ ایک پادری کی طرف سے تھا اورڈپٹی کمشنر جس کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش تھا۔وہ بھی پادری نما تھا۔پس وہ سمجھتے تھے کہ مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہو گی اور وہ ذلت کے ساتھ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے مگر جب وہ عدالت میں پہنچے تو انہوں نے کیا دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بجائے ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے نہایت اعزاز کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پہلو میں کرسی پر بیٹھے ہیں۔آپ پر قتل کا الزام تھا مگر الہبی تصرف کے ماتحت ڈپٹی کمشنر نے اپنے پاس ایک کرسی بچھا دی اور آپ کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے اس پر بٹھا دیا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو آپ کی ذلت دیکھنے کے لئے عدالت میں آئے تھے۔انہوں نے جب اس طرح آپ کو عزت کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی کہ اگر مرزا صاحب کو ہتھکڑی نہیں لگائی گئی تو کم سے کم انہیں ملزموں کے کٹہرے میں تو کھڑا ہونا چاہئے تھا پھر انہیں یہ اور ذلت محسوس ہوئی کہ اب تو میں گواہ کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا ہوں گا اور مرزا صاحب کرسی پر بیٹھے ہوئے ہوں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ یہ بات ان کی برداشت سے باہر ہو گئی اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے کہا۔صاحب آپ نے ملزم کو کرسی دے رکھی ہے، مجھے بھی عدالت میں کرسی ملنی چاہئے۔ڈپٹی کمشنر کہنے لگا تم گواہ ہو اور ہر گواہ کو کرسی نہیں ملا کرتی۔انہوں نے کہا میں تو گواہ ہوں۔آپ نے جب ملزم کو کرسی دے رکھی ہے تو مجھے کیوں کرسی نہیں دی جاتی۔ڈپٹی کمشنر کہنے لگا ہمارے پاس پنجاب کے رؤساء کی لٹیں موجود ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کس کو کرسی ملنی چاہئے اور کس کو نہیں ملنی چاہئے۔مرزا صاحب کے خاندان سے ہم واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ گورنمنٹ ان کے خاندان کو کس عزت کی نگاہ سے دیکھتی چلی آئی ہے۔اس لئے انہیں جائز طور پر کرسی دی گئی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ جواب سن کر بھی خاموش نہ رہے اور کہنے لگے۔