خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 58

* 1942 خطبات محمود 58 عورت نے سنایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دو ہزار کا غلہ خرید لو یا یہ کہ دو ہزار من غلہ خرید لو کیونکہ قحط پڑنے والا ہے۔میں نے یہ رویا سنتے ہی سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے چنانچہ میں نے ایک آدمی مقرر کیا اور خاص طور پر ان لوگوں کو تحریک کی جو غلہ خریدنے کی توفیق رکھتے تھے مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ان میں سے ایک نے بھی غلہ نہیں خریدا۔اب ہم اس کے ازالہ کے لئے کوشش کر رہے ہیں چنانچہ آج ہی میں نے صدر انجمن احمد یہ کو پانچ ہزار روپیہ کے خرچ کی اجازت دی ہے تاکہ اس سے غلہ خرید کر لوگوں کو مہیا کیا جائے اور گو صدرانجمن احمد یہ مول ہی دے گی مگر وہ غلہ اسی صورت میں جمع کر سکتی ہے جب اس کے خریدنے کے لئے روپیہ پاس ہو اور غلہ بھی میسر آجائے۔ابھی نئی فصل کے نکلنے میں قریب ڈیڑھ ماہ باقی ہے اور قادیان کا خرچ سو من روزانہ ہے۔گویا ہمیں قادیان کے لئے پانچ ہزار من غلہ کی ضرورت ہے لیکن آجکل اس قسم کے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ 20، 30 من غلّہ لینا ہو تب بھی بڑی مشکل پیش آتی ہے۔میں اس امر کی بھی تحقیقات کر رہا ہوں کہ اگر بیرونی صوبوں سے غلہ لانے کی اجازت ہو تو سندھ سے غلہ لانے کا انتظام کیا جائے کیونکہ سندھ میں غلہ کچھ پہلے پک جاتا ہے مگر ابھی مجھے یقینی طور پر معلوم نہیں کہ گورنمنٹ کی طرف سے اس کی اجازت ہے یا نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہاں سے غلہ لانے میں خرچ زیادہ ہوتا ہے لیکن جب غلہ ملتا ہی نہ ہو تو اس وقت قیمت کے تھوڑے یا بہت ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔وہاں سے اگر ہم غلہ لائیں تو قریباً چھ روپے چار آنے من پڑے گا۔یعنی روپے کا ساڑھے چھ سیر۔گورنمنٹ کا بھاؤ آٹھ سیر ہے۔ہم اس بات کے لئے بھی تیار ہیں کہ اس نقصان کو خود برداشت کر لیں اور اگر اجازت ہو تو وہیں سے غلہ منگوا لیا جائے مگر ابھی مجھے معلوم نہیں کہ گورنمنٹ کی طرف سے اس کی اجازت ہے یا نہیں۔احتیاطاً میں وہاں کی جماعت کے دوستوں کو ہدایت دے آیا ہوں کہ وہ غلہ کو جمع کرنے کی کوشش کریں تاکہ اگر اجازت ہو تو وہاں سے غلہ منگوایا جاسکے۔مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میں نے صاحب استطاعت لوگوں پر کیوں انحصار کیا۔اگر میں عام اعلان کر دیتا