خطبات محمود (جلد 23) — Page 568
* 1942 568 خطبات محمود ایمان ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ مکان نہ مل سکیں۔صحابہ کو دیکھو کہ وہ اخلاص میں کتنے بڑھے ہوئے تھے۔مہاجرین جب مدینہ میں آئے تو رسول کریم صلی ال کلیم نے ان کا دل بہلانے کے لئے انصار کو بلایا اور فرمایا۔ایک ایک کو اپنے ساتھ ملاؤ اور اس طرح ایک برادرانہ رشتہ قائم کر دیا۔مہاجرین میں سے ایک کو ایک انصاری اپنے گھر لے گئے اور کہا کہ اب تو تم میرے بھائی بن گئے اس لئے میرے باپ کا ورثہ آدھا میرا اور آدھا تمہارا ہوا اور انہیں اپنی آدھی جائیداد بانٹ دی۔ان کی دو بیویاں تھیں اُس وقت تک پردہ کے احکام نازل نہ ہوئے تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ ان میں سے جس کے ساتھ تم شادی کرنا چاہو میں اسے طلاق دے دیتا ہوں تو صحابہ میں ایسا اخلاص اور ایسی قربانی کی روح تھی۔ہماری جماعت بھی مدعی ہے کہ وہ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی ہے اس لئے اسے بھی ان کے طریق پر ہمیشہ خدمت اور قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اور میں تو یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ یہاں کے احمدیوں کے لئے چند دنوں کے واسطے اپنے مکان کے کسی حصہ کو چھوڑ دینا محال ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کسی مخلص کو یہ بات سمجھا دی جائے تو وہ کپڑے اٹھا کر باہر چل پڑے گا اور کہے گا خواہ مجھے بازار میں سونا پڑے میں سوؤں گا آپ مکان لے لیں۔میر اخیال ہے شاید منتظمین لوگوں کے پاس گئے نہیں۔ہاں جس کا ایمان سلامت نہیں اس سے بے شک مکان لینا مشکل ہے۔مومن کو انگیخت کرنا مشکل نہیں اسے صرف مصلحت وقت کے سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر اس سے جو چاہو قربانی کرالو۔مومن کا قدم قربانی میں کہیں نہیں رکھتا۔اس نے خدا تعالیٰ سے وہ چیز مانگی ہوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔آریوں نے اعتراض کیا تھا کہ محدود اعمال کے نتیجہ میں غیر محدود انعامات کس طرح مل سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا یہ جواب دیا کہ اعمال کے محدود ہونے میں انسان کا دخل نہیں۔اس نے تو خدا تعالیٰ سے نہیں کہا تھا کہ اسے موت دے دے وہ تو ہمیشہ کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار تھا۔پس جو غیر محدود قربانی کے لئے تیار تھا۔اسے کیوں نہ غیر محدود انعام دیا جائے۔ہاں جس پر بات واضح ہو جائے اور پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔سمجھ لو کہ اس کے اندر ایمان نہیں۔اس لئے اسے چھوڑ دو۔حضرت مسیح علیہ السلام نے حواریوں کو فرمایا کہ "اگر کوئی تمہیں قبول نہ کرے اور تمہاری باتیں نہ سنے