خطبات محمود (جلد 23) — Page 498
* 1942 498 خطبات محمود سب غلط ہیں۔فٹن تو کجا وہاں تو کوئی ٹانگہ بھی نہیں ( اس زمانہ میں یہاں یکے ہی ہوتے تھے ) اور خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ فٹن آج تک یہاں نہیں ہے۔تو اب بھی ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہاں جادو ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اس جماعت میں داخل ہوتے ہیں ان کو ماریں پڑتی ہیں، گالیاں دی جاتی ہیں، بے عزت کیا جاتا ہے، ان کو مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے پھر بھی یہ فدائی رہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ان کو مار پیٹ گالی گلوچ اور نقصانات کی وجہ سے ڈر جانا چاہئے مگر ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عقل بھی رکھتے ہیں بے وقوف نہیں ہیں اور عقل رکھنے کے باوجود ان کا اس طرح وابستہ رہنا جادو کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے حالانکہ یہ جادو سچائی کا جادو ہوتا ہے۔سچائی انسان کو اپنی طرف ایسامائل کر لیتی ہے کہ جادو کیا کر سکتا ہے۔دنیا کے جادو گروں میں سے کون ایسا ہے جو لوگوں سے وہ قربانیاں کرا سکے جو آنحضرت صلی اللہ کریم نے کرائیں۔میں نے بو علی سینا کا واقعہ پہلے بھی کئی بار سنایا ہے۔ایک دفعہ اس کا ایک شاگر داس کی فلسفیانہ باتوں سے ایسا متاثر ہوا کہ اس نے کہا کہ آپ تو نبی ہیں۔اگر آپ محمد (صلی ) کے زمانہ میں ہوتے تو آپ نبی ہوتے۔بو علی نے اس کی بات سنی تو چپ ہو رہا۔یوں تو وہ شرابی کبابی آدمی تھا۔معلوم ہوتا ہے عقلی طور پر اسلام کو مانتا تھا۔اپنے شاگرد کی یہ بات سن کر وہ خاموش ہو رہا۔سردیوں کا موسم آیا تو ایک دفعہ وہ اس کے ساتھ ایک تالاب کے پاس سے گزرا جس پر برف جمی ہوئی تھی۔اس نے اپنے اس شاگر د سے کہا کہ کپڑے اتار کر اس تالاب میں چھلانگ لگا دو۔یہ بات سن کر اس شاگرد نے کہا کہ میں تو آپ کو بڑا حکیم سمجھتا تھا مگر معلوم ہوتا ہے آپ تو پاگل ہو گئے ہیں، جو مجھ سے ایسی سخت سردی کے موسم میں اس برف میں چھلانگ لگوانا چاہتے ہیں۔بو علی نے اسے کہا کہ تجھے یاد ہے ایک دفعہ تُو نے کہا تھا کہ میں نبی ہوں اور کہ اگر محمد (صلی ایم) کے زمانہ میں میں ہوتا تو میں نبی ہوتا۔بے وقوف ! محمد صلی ا م کے کہنے پر تو لوگ آگ میں کود جاتے تھے، ان کے کہنے پر ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں اور الشرسة میرے کہنے پر تم تالاب میں چھلانگ لگانے کو تیار نہیں ہوتے۔تو اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے کہنے پر لوگ جو جو قربانیاں کرتے ہیں ان کی مثال کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ کا واقعہ ہے۔اسلامی لشکر کہیں جارہا تھا کہ رستہ میں