خطبات محمود (جلد 23) — Page 457
* 1942 457 خطبات محمود دیکھو لڑائی بھی ہو رہی ہے مگر محبت بھی قائم ہے کیونکہ دماغ میں ایک ہی رو چل رہی ہے۔یہ نہیں کہ اگر اختلاف ہے یا لڑائی ہے تو ایک دوسرے کی صورت نہیں دیکھنی اور جس طرح بھی ممکن ہے اسے نقصان پہنچاتا ہے۔علی اور معاویہ میں لڑائی ہو رہی تھی تو قیصر روم کے پاس اس کا بڑا اسقف آیا اور اس نے کہا کہ آپ ذرا اپنے شکاری کتے منگوائیں، اس نے منگوائے تو پادری نے کہا ان کے آگے گوشت ڈالا جائے چنانچہ گوشت ڈالا گیا اور وہ آپس میں لڑنے لگے اس پر اسقف نے ایک نوکر سے کہا کہ ان کو مارو۔اس نے انہیں لٹھ مارا تو وہ چوں چوں کرتے ہوئے بھاگے۔اُسقف نے کہا کہ دیکھو یہ کتنے بڑے بڑے کتے ہیں۔کیا یہ کسی کو اپنے پاس بھی آنے دیتے ہیں لیکن اب کہ یہ آپس میں لڑ رہے تھے ایک معمولی آدمی نے بھی ان کو پیٹا تو اس کے آگے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔قیصر نے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے ؟ تو اسقف نے کہا کہ اس وقت معاویہ اور علی آپس میں لڑ رہے ہیں اور بڑا اچھا موقع ہے۔اگر مسلمانوں پر حملہ کر دیا جائے تو عیسائی حکومت دوبارہ دنیا میں قائم ہو سکتی ہے۔قیصر نے اس کا ارادہ کیا، فوج تیار کرنی شروع کی۔معاویہ کو بھی اس کی اطلاع ہوئی کیونکہ وہ راستہ میں تھے یعنی شام میں اور حضرت علی دور عراق میں تھے۔معاویہ کو پہلے خبر ہوئی کہ قیصر کا لشکر حملہ کی تیاری کر رہا ہے تو انہوں نے قیصر کو کہلا بھیجا کہ سنا ہے آپ اسلامی ممالک پر حملہ کرنے والے ہیں۔اس لئے کہ مجھ میں اور علی میں لڑائی ہے لیکن یہ لڑائی تو ایسی ہی ہے جیسے بھائیوں بھائیوں میں ہوتی ہے۔اگر تم نے اس طرف کا رخ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علی کے حکم کے ماتحت تمہارے مقابل پر آئے گا وہ معاویہ ہو گا۔یہ سن کر قیصر نے اُسی وقت اپنے ارادہ کو چھوڑ دیا۔فختو اگر خیالات کی رو ایک ہو تو ایسا اتحاد قائم ہوتا ہے کہ اگر اختلاف اور لڑائی بھی ہو تو محدود ہوتی ہے اور اتفاق کے لئے دلوں میں سامان موجو د رہتے ہیں۔یزید جیسا ناپاک انسان جس نے رسول کریم صلی الی کمی کی نسل اپنی طرف سے ختم کر دی، اس کا بیٹا اس کے بعد بادشاہ ہوتا ہے۔لوگ اسے بادشاہ بنادیتے ہیں مگر سب سے پہلا خطبہ جو اس نے پڑھا اس میں کہا۔اے لوگو ! دنیا میں ایسا شخص بھی موجود ہے جس کا دادا میرے دادا سے اچھا تھا اور جس کا باپ میرے باپ سے اچھا تھا یعنی زین العابدین جو امام حسین کے لڑکے