خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 316

* 1942 316 خطبات محمود جب تک ہر فرد ایسا نہ ہو کہ استقلال کے ساتھ قربانی کرتا چلا جائے اور ہر روز وہ پہلے روز سے زیادہ قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار پائے۔خوب یاد رکھو کہ ہم نے ایسے دشمن کو زیر کرنا ہے جو استقلال کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہے اور ہم اسے اسی صورت میں مغلوب کر سکتے ہیں کہ جب دلوں میں ایسا ایمان پید اہو جائے کہ یہ قربانیاں جو وہ کر رہا ہے ہمیں بہت ہی کم اور حقیر نظر آئیں۔اگر ایک جرمن کو موت ایک پر کے برابر ملکی نظر آتی ہو تو ہمیں اس پر کے ریشہ سے بھی ہلکی نظر آئے۔اگر یہ تکالیف ایک جرمن کو ایک پر کے برابر ہلکی نظر آرہی ہوں تو ہمارے دل کا احساس ان کو پر کے ریشہ سے بھی ہلکا بتا رہا ہو۔یہ ضروری چیزیں ہیں۔جب تک یہ ہم میں پیدا نہ ہوں ہم دنیا پر غالب نہیں آسکتے۔کچھ روز کام کر کے تھکان محسوس کرنے کے معنے یہ ہیں کہ کچھ عرصہ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کے لئے دروازے کھول دیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا پچھلا کیا کرایا بھی رائیگاں چلا جائے۔اس کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص دو گھنٹہ تک تو چوروں کا مقابلہ کرے مگر پھر مکان کا دروازہ کھول دے۔اس کے لئے تو یہی بہتر تھا کہ پہلے ہی کھول دیتا تا خوامخواہ مار نہ کھاتا اور زخمی نہ ہوتا۔جو قوم کچھ عرصہ کے بعد تھک کر ہتھیار ڈال دیتی ہے وہ بے وقوف ہے۔اس کے لئے تو پہلے ہی مرحلہ پر ہتھیار ڈال دینا مناسب تھا۔ہتھیار اٹھانے کا حق اسے ہی ہے جو آخر دم تک مقابلہ کرے اور ان کے لئے تیار ہو۔مسلمانوں میں آج تک جتنی بھی تحریکات شروع ہو ئیں وہ اسی طرح ختم ہو گئیں۔جب خلافت کی تحریک شروع ہوئی تو اتنا جوش تھا کہ ایسا معلوم ہو تا تھا سارا ہندوستان ملک سے باہر چلا جائے گا اور اس میں شبہ نہیں کہ بعض لوگوں نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کیں۔اچھے اچھے عہدوں والوں نے نوکریاں چھوڑ دیں اور ہجرت کر کے چلے گئے۔انہوں نے اپنی بڑی بڑی قیمتی جائدادیں اونے پونے کر کے بیچ ڈالیں اور یہاں سے چلے گئے مگر پانچ چھ ماہ کے بعد ہی یہ سار اجوش مٹ گیا اور آج ان مہاجرین کو کوئی جانتا بھی نہیں۔جو لوگ باہر گئے ان میں سے کچھ تو دھکے کھا کر واپس آگئے ، کچھ مر گئے اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی تک ارد گرد کے ملکوں میں پھر رہے ہیں اور اب کہیں بھی وہ جوشِ ہجرت نظر نہیں آتا۔اس کے بعد حال میں مسجد شہید گنج کی