خطبات محمود (جلد 23) — Page 31
* 1942 31 خطبات محمود سے ان کے گزارہ کا انتظام ہوتار ہے۔اسی طرح ہمارا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور ہمارے کام میں برکت ڈالے تو اس فنڈ سے زیادہ سے زیادہ مبلغ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں اور ان ممالک میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ان تمام ممالک میں رہنے والے لوگوں تک خدا تعالیٰ کا کلام پہنچانے اور اُس پیغام کو پہنچانے کے لئے جو اس آخری زمانہ میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ بھیجا اور اسلام کو دنیا کے کونہ کو نہ میں پھیلانے کے لئے ہمیں سینکڑوں مبلغوں کی ضرورت ہے اور پھر ان سینکڑوں زبانوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے جن کو سیکھنے کے بغیر ہم اپنے تبلیغی فرض کو ادا نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض زبانیں ایسی ہیں جن کے جان لینے کی وجہ سے انسان تعلیم یافتہ گروہ تک اپنے خیالات دنیا بھر میں پہنچا سکتا ہے مثلاً عربی ہے، انگریزی ہے، جرمن ہے، سپینش ہے، پرتگیزی ہے، فرانسیسی ہے۔یہ چند زبانیں ایسی ہیں جن کو سیکھ کر انسان قریب قریباً ساری دنیا میں تبلیغ کر سکتا ہے لیکن یہ تبلیغ صرف تعلیم یافتہ طبقہ تک محدود رہے گی۔عوام کا گر وہ جو بہت بڑی اکثریت رکھتا ہے اس کے کانوں تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے صرف ان زبانوں کا جاننا کافی نہیں بلکہ مقامی زبانوں کا جاننا بھی ضروری ہے مثلاً افغانستان میں چلے جاؤ وہاں بھی تمہیں ایک ایسا تعلیم یافتہ گروہ مل جائے گا جو عربی اور فارسی جانتا ہو گا۔خصوصا کابل اور اس کے ارد گرد جو علاقہ ہے وہاں کے رہنے والے لوگ فارسی ہی میں کلام کرتے ہیں اور انہیں فارسی زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کی جاسکتی ہے لیکن خوست کے علاقہ میں سوائے پشتو زبان جاننے والے کے اور کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا۔اسی طرح افغانستان کے بعض اور علاقے ایسے ہیں جہاں صرف پشتو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔پھر ہندوستان اور کابل کے درمیان بعض ایسے قبائل ہیں جن میں تبلیغ کرنے کے لئے صرف پشتو جانا کافی نہیں بلکہ مقامی زبانیں جاننا بھی ضروری ہے۔یہ قبائل چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں ہیں اور صرف اپنی زبان میں ہی بات کو سمجھ سکتے ہیں کسی اور زبان میں اُن سے بات کی جائے تو وہ نہیں سمجھ سکتے۔اسی طرح ہندوستان کے شمالی پہاڑوں پر چلے جاؤ تو تمہیں اُن پہاڑی لوگوں میں نہ کوئی عربی جاننے والا ملے گا، نہ کوئی فارسی جاننے والا ملے گا، نہ کوئی جرمن زبان جاننے والا ملے گا، نہ کوئی فرانسیسی زبان جاننے والا ملے گا، نہ کوئی اُردو جاننے والا ملے گا، نہ کوئی پنجابی جاننے والا