خطبات محمود (جلد 23) — Page 298
$1942 298 خطبات محمود نے تمہارے خاندان کی عزت کو قائم رکھا اور ہر قسم کی تکلیفیں اپنے نفس پر برداشت کیں مگر میری عزت پر یا تمہارے خاندان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آیا۔انہوں نے کہا ہم یہ سب باتیں جانتے ہیں۔اس نے کہا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہاری تربیت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔تمہیں ہر قسم کا آرام پہنچانے کی میں نے کوشش کی اور تمہاری خاطر میں نے کئی قسم کی تکالیف میں اپنے آپ کو ڈالا۔کیا یہ باتیں صحیح ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا اماں آپ جو کچھ کہتی ہو بالکل درست ہے۔پھر خنساء نے کہا۔اے میرے بچو! آج صبح اسلامی لشکر ایک ایسی لڑائی کے لئے جانے والا ہے جس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑا نقصان یا بہت بڑا فائدہ اسلام کو پہنچنے والا ہے۔میں تمہیں اپنے ان اعمال کا واسطہ دے کر جو میں نے تمہاری تربیت کے لئے کئے اور ان تکالیف کو یاد دلا کر جو میں نے تمہاری خاطر برداشت کیں تم سے یہ اقرار لینا چاہتی ہوں کہ تم اس جنگ میں یا مارے جاؤ گے یا فتح پا کر واپس لوٹو گے ورنہ (عرب کے محاورہ کے مطابق اس نے کہا) میں نے جو تم پر احسان کیا ہے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری نیک تربیت کی ہے قیامت کے دن نہیں بخشوں گی۔ان بچوں نے ماں سے وعدہ کیا کہ ماں ایسا ہی ہو گا یا ہم سب مارے جائیں گے یا فتح پا کر واپس لوٹیں گے۔4 تو دیکھو وہ بھی ایک عورت تھی اور بیوہ عورت تھی جس نے یہ نمونہ دکھایا اس کے تین بچے تھے مگر اس نے تینوں بچوں سے یہ اقرار لے کر میدان جنگ میں بھجوا دیا کہ یاوہ مر جائیں گے یا فتح پا کر لوٹیں گے۔اس نے اپنی ساری عمر دکھ میں کائی تھی اور طبعی طور پر وہ سمجھتی تھی کہ اب اس کے بیٹے کمائیں گے اور وہ آرام سے اپنی زندگی کے آخری دن گزار سکے گی مگر ایسے موقع پر جبکہ وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے گزر رہی تھی اس نے اپنے تینوں بچوں کو قربان کرنے کے لئے جس جرات اور دلیری کے ساتھ پیش کر دیا۔کیا وہ عورت نہیں تھی یا کیا اس کے سینہ میں ماؤں والا دل نہیں تھا۔اگر ماؤں والا دل اس کے سینے میں نہ ہوتا تو وہ اپنے بچوں کی پرورش اتنی تکالیف میں کس طرح کرتی۔یہ سب کچھ تھا مگر پھر بھی اس نے بچوں کو قربان کرنے کے لئے پیش کر دیا، اس کے دل کی اس وقت جو کچھ کیفیت تھی اس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ ادھر اس نے اپنے بچوں کو لڑائی کے میدان میں بھیجا ادھر اکیلی جنگل میں نکل گئی اور بے اختیار سجدے میں گر کر اس نے اللہ تعالیٰ سے