خطبات محمود (جلد 23) — Page 289
* 1942 289 خطبات محمود مرنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور اگر کوئی شخص ایک مرلہ زمین کے چلے جانے پر خاموش رہے گا۔تو اگر اس کی ایک کنال زمین کوئی شخص چھینے کی کوشش کرے گا تو اس وقت وہ خاموش نہیں رہے گا اور اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جائے گا۔پھر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک کنال زمین کا نقصان تو برداشت کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص ان کے کھیت پر قبہ بر قبضہ کرنا چاہے تو پھر وہ خاموش نہیں رہتے اور مقابلہ پر اتر آتے ہیں۔بہر حال تمہیں کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا سوائے اس کے جو فاتر العقل ہو کہ اس کی ساری زمین لوگ چھین کرلے جائیں اور وہ چپ کر کے بیٹھا رہے پھر کیسی حیرت کا مقام ہے کہ لوگ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے تو اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جانیں دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر لوگ مارے جاتے ہیں تو مارے جائیں۔دشمن ہمارے ملک کو چھیننا چاہتا ہے تو بے شک چھین لے۔میں نے جیسا کہ پچھلے خطبات میں بھی توجہ دلائی ہے۔کئی لوگ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو دنیوی لڑائی ہے اس میں ہم کیوں حصہ لیں۔اسی لئے میں نے دنیوی مثالیں پیش کی ہیں۔کیا منڈیر کی لڑائی دنیوی لڑائی نہیں ہوتی۔کیا ایک مرلہ زمین کے لئے لڑائی دنیوی لڑائی نہیں ہوتی، کیا ایک کنال زمین کے لئے لڑائی دنیوی لڑائی نہیں ہوتی۔پھر یہ مثالیں تو الگ رہیں۔ہم جانتے ہیں زمینداروں میں بعض دفعہ ڈولوں پر لڑائی ہو جاتی ہے۔ایک کہتا ہے میں نے پہلے ڈول نکالنا ہے اور دوسرا کہتا ہے میں نے نکالنا ہے اور اسی پر ان میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔پھر یہ بات بھی الگ رہی بعض دفعہ صرف اس لئے لڑائی ہو جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں مجلس میں گئے تھے۔انہوں نے ہمیں اپنی مجلس میں بیٹھنے نہیں دیا۔اسی طرح بعض دفعہ معمولی معمولی طعنوں پر لڑائی اور خونریزی ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ ہنسی اور مذاق ناگوار صورت اختیار کر لیتا ہے اور لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔جب وجہ دریافت کی جاتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ فلاں نے یہ مذاق کیا تھا حالانکہ وہ مذاق معمولی سا ہوتا ہے۔کوئی بری بات اس میں نہیں ہوتی جب دنیوی معاملات میں لوگ اس طرح اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔تو اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جان دینے سے وہی شخص انکار کر سکتا ہے جو جاہل ہو اور وہ جانتا